Al-Risala · October 1989 · page 29

بے خبری

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۹، صفحہ ۲۹

بے خبری

ڈاکٹر مارٹن لو تھر کنگ (Martin Luther King Jr) امریکہ کی کالی نسل (نیگرو) کے ایک لیڈر تھے۔ وہ ۱۵ جنوری ۱۹۲۹ء کو اٹلانٹا میں پیدا ہوئے۔ امریکہ میں نیگروؤں کی آبادی ۲۲ ملین ہے۔ انھیں سفید فام لوگوں کے برابر کا انسان نہیں سمجھا جاتا ۔ مارٹن لو تھر کنگ اپنی قوم کو شہری حقوق (Civil rights) دلوانے کے لیے اٹھے۔ انھوں نے تشدد کو چھوڑ کر غیر متشددانہ مزاحمت (Nonviolent resistance) کا طریقہ اختیار کیا۔ ان کے اندر غیر معمولی تقریری صلاحیت تھی۔ چنانچہ وہ بہت جلد مقبول ہوگئے ۔ وہ اپنی تقریروں میں کہا کرتے تھے کہ ہم ایک تخلیقی جنگ میں مصروف ہیں تاکہ اپنے اوپر سے نسلی بے انصافی کی لمبی رات کو ختم کر سکیں : We are engaged in a creative battle to end the long night of racial injustice (10/473). مارٹن لو تھر کنگ کا غیر معمولی اعتراف ان کی زندگی ہی میں اس طرح کیا گیا کہ ۱۹۶۴ء میں ان کو امن (Peace) کا نوبیل انعام دیا گیا ۔ تاہم سفید فام نسل سے تعلق رکھنے والوں کا ایک طبقہ ان سے ناراض ہو گیا ۔ چنانچہ ایک سفید فام امریکی جیمز ارل رے (James Earl Ray) نے ۴ اپریل ۱۹۶۸ء کو گولی مار کر انھیں ہلاک کر دیا ۔ اس آدمی پر مقدمہ چلا ۔ امریکی عدالت نے اس کو 99 سال قید کی سزا دی ۔ مارٹن لو تھر کنگ کی تدفین کے بعد ان کی قبر پر جو کتبہ لگایا گیا اس پر درج ہے، آخر کار آزاد : Free at last مارٹن لو تھر کنگ کے ساتھیوں کے نزدیک آزادی یہ تھی کہ وہ سفید فام نسل کے غلبہ سے رہائی حاصل کر لیں۔ موت نے جب ان کے لیڈر کو سفید فام لوگوں کے قبضہ سے دور کر دیا تو انھوں نے کہہ دیا کہ اب وہ آزاد ہو گیا ۔ مگر یہ صرف بے خبری کی بات ہے ۔ انسان کی آزادی حقیقۃ یہ ہے کہ اس کو آنے والی اصلی اور طویل تر دنیا میں جہنم سے رہائی ملے ۔ اس کو ابدی جنت کا مستحق قرار دیا جائے ۔ دنیا کے کتنے آزاد آخرت میں غلام نظر آئیں گے ، اور کتنے غلام آخرت میں آزاد قرار دیئے جائیں گے ۔ مگر اکثر لوگ اس سب سے بڑی حقیقت کو نہیں مانتے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1989 All issues

Printed page