Al-Risala · October 1989 · page 30

بے خبری

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۰

اشتراکی روس کے پہلے حکمراں لینن کا انتقال ۱۹۲۴ میں ہوا۔ اس کے بعد جوزف اسٹالن روس کا وزیرِ اعظم بنا۔ اور اپنی وفات (۱۹۵۳) تک اس عہدہ پر باقی رہا۔ اس نے تقریباً ۳۰ سال تک اشتراکی روس کے اوپر مطلق العنان حکومت کی۔ اس دوران اس نے بے شمار مظالم کیے۔ حتیٰ کہ کہا جاتا ہے کہ اس نے تقریباً ۵۰ ملین انسانوں کو مختلف طریقوں سے ہلاک کر ڈالا (ٹائمز آف انڈیا ۲۰ اپریل ۸۹) اسٹالن کے پورے دورِ حکومت میں اس کے مظالم اس طرح مکمل طور پر چھپائے جاتے رہے کہ اس کا ایک لفظ بھی اشتراکی روس کی وسیع مملکت میں کہیں شائع نہ ہو سکا۔ بعد کے ایک روسی وزیرِ اعظم نیکیتا خروشیف نے کمیونسٹ پارٹی کی بیسویں کانگریس میں بند کمرے کے اندر اس کے بھیانک جرائم پر ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی ۔ یہ واقعہ ۲۵ فروری ۱۹۵۶ کا ہے۔ مگر اس کے باوجود خروشیف کی یہ رپورٹ نہ روس کے ملکی اخبارات میں چھپنے کے لیے دی گئی اور نہ بیرونی اخبارات میں۔ اسٹالن کے مظالم کا راز بدستور راز بنا رہا۔ مگر ۶ اپریل ۱۹۸۹ کو اس راز کا پردہ پھٹ گیا۔ اس واقعہ کے ۳۳ سال بعد، اور اصل مظالم کے نصف صدی سے بھی زیادہ بعد، اس رپورٹ کو شائع کر دیا گیا ہے۔ ماسکو سے شائع ہونے والے ایک سرکاری ماہنامہ نیوز (News) نے ۱۶ اپریل ۱۹۸۹ کو خروشیف کی یہ رپورٹ مکمل طور پر شائع کی ہے، اور اس کا عنوان ہے ــــــــــ شخصیت پرستی اور اس کے اثرات : On the personality cult and its consequences. موجودہ دنیا میں آدمی سرکشی کرتا ہے۔ وہ اپنی بڑائی قائم رکھنے کی خاطر حق کو ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔ پھر بھی اس کو اپنی اصل حیثیت پر پردہ ڈالنے کے لیے خوبصورت الفاظ مل جاتے ہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں نے ہمیشہ کے لیے اپنی بداعمالیوں کو چھپالیا۔ مگر جس طرح اسٹالن کے لیے "۶ اپریل" کی تاریخ طے تھی، اور اس تاریخ کے آتے ہی وہ ساری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا۔ اسی طرح ہر انسان کے لیے ایک ۶ اپریل مقدر ہے ۔ اس کے آتے ہی ہر آدمی کی حقیقت صفحہ اول کی خبر بن جائے گی جس طرح ۶ اپریل ۱۹۸۹ کو اسٹالن کی حقیقت صفحہ اول کی خبر بن گئی۔

یہ دن بہر حال ہر انسان پر آنے والا ہے، خواہ وہ آج آئے یا آج کے ۵۰ سال بعد۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1989 All issues

Printed page