Al-Risala · October 1989 · page 31

فخر یا شکر

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۱

فخر یا شکر

مز بھارتی مکھرجی ایک ہندوستانی خاتون ہیں ۔ ۱۹۶۱ سے وہ امریکہ میں مقیم ہیں۔ انھوں نے انگریزی میں ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے ۔ درمیانى آدمى اور دوسری کہانیاں : The Middleman and Other Stories اس کتاب کو ۱۹۸۸ کی بہترین کہانی (The best fiction of 1988) قرار دیتے ہوئے گراں قدر انعام دیا گیا ہے۔ یہ انعام نیو یارک کے ادارہ National Book Critics Circle نے ان کو دیا ہے۔

مز بھارتی مکھرجی منہٹن (امریکہ) میں رہتی ہیں۔ مذکورہ انعام کی خبر معلوم ہونے کے بعد نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا (۱۳ جنوری ۱۹۸۹) نے مز بھارتی سے ٹیلی فون پر ربط قائم کیا اور ان سے پوچھا کہ انعام کی خبر جب آپ نے سنی تو آپ پر کیا تاثر ہوا۔ مس بھارتی نے جواب دیا کہ اس سے مجھ پر ایک تموج کی کیفیت طاری ہو گئی ہے :

I am thrilled about it

دنیا میں ایسے بے شمار لوگ ملیں گے جن کو ان کے کسی کارنامہ پر انعام اور تحسین ملے تو ان پر تموج (دھترں) کی کیفیت طاری ہو جائے ۔ مگر ایسا آدمی شاید ساری دنیا میں ایک بھی نہیں جس کو اس منعم حقیقی کے عطیہ پر تموج (دھترں) کی کیفیت پیدا ہو جس کے دیئے ہوئے جسم اور دماغ اور موافق حالات کو استعمال کر کے اس نے یہ کارنامہ انجام دیا۔

غیر معمولی صلاحیتوں والا ذہن، انتہائی موزوں جسم اور بے شمار موافق حالات ہی کی بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ کوئی شخص سوچے، منصوبے بنائے اور عمل کر کے اس کو تکمیل تک پہنچائے۔ اور یہ سب کچھ بلاشبہ خدا کا دیا ہوا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر کارنامہ خدا کا کارنامہ ہے۔ ہر کارنامہ کا فضل خدا کو پہنچتا ہے۔ آدمی اس راز کو جانئے تو وہ اپنی ہر کامیابی پر خدا کے آگے سجدہ میں گر جائے ۔ مگر نادان انسان اس کو اپنا کارنامہ سمجھ لیتا ہے۔ جس واقعہ پر اس کے اندر شکر کا جذبہ ابھرنا چاہیے، اس کو وہ اپنے لیے فخر کا سرمایہ بنا لیتا ہے ۔

۳۱ | رسالہ اکتوبر ۱۹۸۹

‹ Previous page Next page › Contents of October 1989 All issues

Printed page