Al-Risala · October 1989 · page 33

بددعا نہیں

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۳

بددعا نہیں

لیس لك من الامر شئ او يتوب عليهم تم کو کچھ اختیار نہیں۔ اللہ یا ان کو تو بہ کی توفیق يعذبهم فانهم ظالمون ۔ و لله ما فى دے یا ان کو عذاب دے ، کیوں وہ ظالم ہیں۔ السماوات وما فى الارض يغفر لمن يشاء اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ ويعذب من يشاء و الله غفور رحیم زمین میں ہے۔ وہ جس کو چاہے بخش دے اور جس (آل عمران : ۱۲۹-۱۲۸) کو چاہے عذاب دے ، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

احادیث سے ثابت ہے کہ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کافروں اور مشرکوں پر لعنت کی اور ان کے خلاف بددعا کی۔ اس پر یہ آیتیں اتریں ۔ اس آیت میں ان کافروں اور مشرکوں کو صاف طور پر " ظالم " کہا گیا ہے۔ مگر ظالم ہونے کے باوجود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اجازت نہیں دی گئی کہ آپ ان پر لعنت بھیجیں اور ان کے خلاف بددعا فرمائیں۔

ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے تحت مختلف روایتیں جمع کی ہیں۔ ان کے مطالعہ سے آیت کا مفہوم پوری طرح واضح ہو جاتا ہے۔ یہاں ہم کچھ روایتوں کو مختصر طور پر نقل کرتے ہیں۔ امام بخاری نے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کی دوسری رکعت میں جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سمع الله لمن حمده کہنے کے بعد یہ کہتے : اللهم العن فلانا و فلانا آخرد یا فلان اور فلاں پر لعنت کر) اس پر اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت نازل فرمائی (اور لعنت سے منع کر دیا امام احمد نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے تھے کہ اے اللہ ، حارث بن ہشام، سہیل بن عمرو ، صفوان بن امیہ پر لعنت کر، اس پر مذکورہ آیت اتری ( اور آپ کو لعنت سے منع کر دیا گیا ) امام بخاری نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین میں سے کچھ لوگوں کا نام لے کر ان کے خلاف بد دعا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت اتاری (تو آپ نے بد دعا چھوڑ دی)

‹ Previous page Next page › Contents of October 1989 All issues

Printed page