بددعا نہیں
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۷
اور آپ اپنے قول سے باز آ گئے ) امام احمد نے روایت کیا ہے کہ غزوہ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے اور آپ کا چہرہ زخمی ہو گیا۔ یہاں تک کہ آپ کے چہرہ پر خون بہہ پڑا۔ آپ نے کہا کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی ۔ جس نے اپنے نبی کے ساتھ ایسا کیا ، حالاں کہ وہ ان کو ان کے رب کی طرف بلا ر ہا تھا ۔ اس وقت مذکورہ آیت اتری ، اس کے بعد آپ رک گئے ، تفسیر ابن کثیر الجزء الاول ، صفحه ۲۰۳ - ۲۰۴ سورۂ آل عمران کی مذکورہ آیت اور اس کی تشریحی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مخالفینِ اسلام کے کھلے ہوئے ظلم کے باوجود ان پر لعنت کرنا یا ان کے خلاف بد دعا کرنا جائز نہیں۔ جارحیت کی صورت میں بشرط استطاعت ان سے دفاع کیا جائے گا، مگر عین اس وقت بھی ان کے خلاف بد دعا نہیں کی جائے گی جب کہ وہ میدانِ جنگ میں اترے ہوئے ہوں، حتی کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ انھوں نے پیغمبر خدا کو زخمی کر دیا ہو۔
اسی کا نام داعیانہ اخلاق ہے ۔ داعی کو ہر حال میں صبر کا حکم دیا گیا ہے ۔ داعی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے مدعو سے نفرت کرنے لگے ۔ مدعو اگر زیادتی کرے تب بھی حکم ہے کہ داعی اس کو برداشت کرے ۔ وہ دعا گوئی کی حد تک اس کا خیر خواہ بن جائے ۔
داعی کی یہ روش اس کی دعوت کو طاقت ور بناتی ہے ۔ وہ اس کے دعوتی عمل کو تیسری عمل کے درجہ تک پہنچا دیتی ہے ۔
حیدر آباد میں الرسالہ اور اسلامی مرکز کی کتابوں کے لیے مندرجہ ذیل پتہ پر رابطہ قائم کریں:
AL-RISALA ACADEMY 3-5-780/19/2, King Kothi Opposite: Azam Manzil HYDERABAD 500 039 Phone: 231607
‹ Previous page Next page › Contents of October 1989 All issues