Al-Risala · October 1989 · page 35

نکاح کے بعد

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۵

نکاح و طلاق نکاح سے پہلے حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص جب کسی عورت سے نکاح کا پیغام دے تو اگر اس شخص کے لیے ممکن ہو کہ وہ اسے دیکھے تاکہ اس سے نکاح کی طرف رغبت ہو تو وہ ضرور ایسا کرے، (اذا خطب احدكم المرأة فان استطاع ان ينظر الى ما يدعوه الى نكاحها فليفعل)

حضرت مغیرہ بن شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا کہ کیا تم نے اس عورت کو دیکھا ہے۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اس کو نکاح سے پہلے دیکھ لو۔ کیوں کہ اس طرح زیادہ امید ہے کہ تم دونوں کے تعلق میں استواری پیدا ہوگی (قال خطبت امرأة - فقال لى رسول الله صلى الله عليه وسلم هل نظرت اليها - قلت لا - قال فانظر اليها فانه احرى ان يؤدم بينكما )

نکاح کے بعد

حضرت عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے زیادہ ناپسندیدہ حلال اللہ کے نزدیک طلاق ہے (ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال : ابغض الحلال الى الله الطلاق) معاذ بن جبل کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اے معاذ، اللہ نے زمین پر سب سے زیادہ محبوب چیز جو پیدا کی وہ غلام کو آزاد کرنا ہے، اور اللہ نے سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز جو زمین پر پیدا کی وہ طلاق ہے (قال لى رسول الله صلى الله عليه وسلم يا معاذ ، ما خلق الله شيئاً على وجه الارض احب اليه من العتاق- ولا خلق الله شيئاً على وجه الارض البغض اليه من الطلاق) ان روایات سے نکاح و طلاق کے بارہ میں اسلام کا مزاج معلوم ہوتا ہے۔ اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ آدمی نکاح سے پہلے تو خوب سوچے ۔ مگر نکاح کے بعد وہ صرف نباہنے کی کوشش کرے ۔ اسلام میں غیر عورت کو بالقصد دیکھنا جائز نہیں۔ مگر مخطوبہ کو دیکھنے کی کھلی اجازت دی گئی۔ دوسری طرف طلاق کو ابغض المباحات قرار دیدیا گیا۔ گویا نکاح سے پہلے تحقیق کے لیے ممنوعہ حد تک جانے کی اجازت ہے۔ مگر نکاح کے بعد مباح حد کے اندر داخل بھی پسند نہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1989 All issues

Printed page