Al-Risala · October 1989 · page 37

محسن کشی کیوں

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۷

محسن کشی کیوں

یکم دسمبر ۱۹۸۸ء کو مسٹر کمال بی کام (عطیک) سے ملاقات ہوئی۔ وہ دہلی میں بزنس کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنے بعض تلخ تجربات کی روشنی میں ایک سوال کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ جس آدمی کے اوپر احسان کیا جائے وہی بعد کو اپنا دشمن بن جاتا ہے ۔ میں نے کہا کہ عربی زبان میں ایک پرانا مثل ہے : اتّقِ شَرَّ مَن أحسنتَ الیہ (آدمی کے شر سے بچو جس کے اوپر تم نے احسان کیا ہے) اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم از کم دو ہزار سال سے لوگوں کو وہی تجربہ ہو رہا ہے جس کا تجربہ آپ پر گزرا۔

پھر میں نے کہا کہ آدمی کے اندر سب سے زیادہ بڑھا ہوا جذبہ خود پسندی کا جذبہ ہے۔ اسی خود پسندی کا یہ نتیجہ ہے کہ وہ کسی کا اعتراف نہیں کرنا ، وہ کسی کو اکنالج (Acknowledge) کرتا نہیں چاہتا۔ احسان فراموشی یا محسن کشی کی روش در اصل انسان کے اسی مزاج کا نتیجہ ہے ۔ جب آپ کسی کے ساتھ احسان کرتے ہیں تو آپ اس کو کوئی چیز دیتے ہیں۔ یہاں اس کی پیدائشی فطرت زور کرتی ہے کہ وہ آپ سے ملی ہوئی چیز کو آپ کا عطیہ کہے۔ اس کا ضمیر بار بار اس کے لیے آواز دیتا ہے۔ مگر اس کی خود پسندی اس اعتراف پر راضی نہیں ہوتی۔ اب آدمی کے اندر ایک خاموش کش مکش شروع ہو جاتی ہے۔ ایک طرف فطرت ہوتی ہے اور دوسری طرف انانیت ۔ آخر کار آدمی کا سرکش دماغ اس کا ایک حل نکال لیتا ہے۔ وہ آپ کو بدنام کرنا شروع کر دیتا ہے۔ وہ آپ کے خلاف جھوٹی باتیں گھڑ کر یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے آپ بہت برے آدمی ہیں۔ بظاہر یہ بات وہ دوسروں سے کہہ رہا ہوتا ہے ۔ مگر در حقیقت اس کا مخاطب اس کی اپنی ذات ہوتی ہے ، اس طرح وہ اپنی فطرت کی آواز کو یہ کہہ کر دبا تا ہے کہ وہ تو بہت برا آدمی ہے ، وہ اس قابل نہیں کہ اس کی کسی خوبی کا اعتراف کیا جائے ۔

نفسیات کی زبان میں اس روش کو خود فریبی (Self-deception) کہا جاتا ہے۔ قرآن میں ایسے لوگوں کی بابت ارشاد ہوا ہے کہ وہ صرف اپنے آپ کو دھوکا دیتے ہیں ، اپنے سوا کسی اور کو نہیں (وما يخدعون الا انفسهم)

‹ Previous page Next page › Contents of October 1989 All issues

Printed page