Al-Risala · October 1989 · page 38

محسن کشی کیوں

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۸

یہ کہنا کہ فلاں آدمی نے میرے ساتھ احسان کیا ہے، گویا یہ کہنا ہے کہ وہ بڑا ہے اور میں چھوٹا ہوں۔ کسی کے احسان کو ماننا، اس کے مقابلہ میں اپنے آپ کو چھوٹا کر لینے کے ہم معنی ہے۔ چونکہ آدمی اپنے کو چھوٹا کرنے پر راضی نہیں ہوتا اس لیے وہ برعکس طور پر یہ کرتا ہے کہ دوسرے کو چھوٹا کرنے میں مصروف ہو جاتا ہے۔

ایک بزرگ سے کہا گیا کہ فلاں آدمی آپ کی برائی کرتا ہے۔ بزرگ نے کہا کہ نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا، کیوں کہ میں نے اس کے ساتھ کوئی احسان نہیں کیا ہے۔

بزرگ کا یہ قول بہت بامعنی ہے۔ جب آپ کسی کے ساتھ ایک احسان کرتے ہیں تو آپ اس کو ایک چیز دیتے ہیں ۔ اب اس آدمی کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اس بات کا اقرار کرے کہ یہ چیز آپ کی دین ہے ، وہ اس کو آپ کے ذریعہ سے ملی ہے۔

مگر اس قسم کے اعتراف سے آدمی کی انا پر ضرب پڑتی ہے۔ یہ آپ کی بڑائی کو ماننا ہے، اور کسی دوسرے کی بڑائی کو ماننا آدمی کے لیے مشکل ترین کام ہے۔ یہی وہ نفسیاتی پیچیدگی ہے جو آدمی کو اس طرف لے جاتی ہے کہ وہ اپنے محسن کی برائی کرنا شروع کر دے۔ ایسا کر کے گویا وہ اپنی بڑائی کے احساس کو محفوظ رکھتا ہے ۔ اس طرح وہ ظاہر کرتا ہے کہ جو چیز اس کے پاس ہے وہ اس کی اپنی لیاقت سے حاصل کی ہوئی چیز ہے نہ کہ کسی کے دینے سے اس کو ملی ہے۔

اس دنیا میں سب سے زیادہ مشکل کام دوسرے شخص کے کمال کا اعتراف ہے۔ دوسرے کا اعتراف ہمیشہ اپنی نفی کی قیمت پر ہوتا ہے۔ آدمی اپنی نفی کرنا نہیں چاہتا، اس لیے وہ دوسرے کا اعتراف بھی نہیں کرتا۔

احسان کے واقعہ میں آدمی مزید ایک مشکل میں مبتلا ہوتا ہے۔ وہ دوسرے کا اعتراف نہ کرے تب بھی دوسرے کی دی ہوئی چیز جو اس کے پاس ہے ، وہ ہر وقت اس کو یاد دلاتی ہے کہ فلاں شخص تم سے بڑا ہے ، وہ تم کو دینے والا ہے اور تم اس سے پالنے والے۔ اس نفسیاتی مسئلہ کی بنا پر آدمی محسن کے بارہ میں چپ نہیں رہ سکتا ۔ وہ مجبور ہوتا ہے کہ یا تو ملی ہوئی چیز کو دوسرے کا عطیہ بتائے یا اپنا کارنامہ ثابت کرے ۔ یہاں وہ اپنی انا کو باقی رکھنے کی خاطر یہ تدبیر نکالتا ہے کہ محسن کی برائی کرنا شروع کر دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1989 All issues

Printed page