Al-Risala · October 1989 · page 39

محسن کشی کیوں

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۹

صبر کی اہمیت

ایک فلسطینی نوجوان سے ملاقات ہوئی ۔ گفتگو کے دوران میں نے دین میں صبر کی اہمیت کا ذکر کیا اور صبر سے متعلق قرآن کی آیتیں ان کے سامنے پیش کیں ۔ انھوں نے فوراً کہا : صبر کی آیتیں تو مکی دور میں اتری تھیں ۔ ہجرت کے بعد صبر کا حکم منسوخ کر دیا گیا اور جہاد و قتال کی آیتیں اتاری گئیں ۔ اب ہم دورِ صبر میں نہیں ہیں ۔ اب ہم دورِ جہاد میں ہیں ۔ اب ہمارے تمام معاملات جہاد کے ذریعہ درست ہوں گے اور یہی کام ہمیں کرنا ہے ۔

یہ ایک بہت بڑا مغالطہ ہے جس میں بے شمار لوگ مبتلا ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر ایک ابدی حکم ہے ۔ اس کا تعلق ہر دور اور ہر زمانہ سے ہے ۔ صبر تمام دینی اعمال کا خلاصہ ہے ۔ آدمی کوئی دینی عمل صحیح طور پر اسی وقت کر سکتا ہے جب کہ اس کے اندر صبر کا مادہ ہو ۔ جس آدمی سے صبر رخصت ہو جائے ، وہ کوئی بھی دینی کام صحیح ڈھنگ سے انجام نہیں دے سکتا ، خواہ وہ کلمہ توحید پر استقامت کا معاملہ ہو یا میدانِ مقابلہ میں شجاعت کا معاملہ ۔ یا اور کوئی معاملہ ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں بار بار صبر کی تاکید کی گئی ہے ، اور علی الاطلاق طور پر اس کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے ۔ قرآن میں صبر کا مادہ ایک سو سے زیادہ بار استعمال کیا گیا ہے۔ سورۃ البقرہ ایک مدنی سورۃ ہے ، اس میں کہا گیا ہے کہ تم لوگ صبر اور نماز سے مدد لو ، اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ( استعينوا بالصبر والصلاة ان ٱللَّهَ مع الصابرين البقرة ۱۵۳)

حدیث میں صبر کی بہت زیادہ فضیلت آئی ہے اور مختلف پہلوؤں سے اس کی اہمیت بتائی گئی ہے ۔ بخاری و مسلم کی ایک متفق علیہ روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے صبر سے زیادہ اچھا اور بڑا عطیہ کسی شخص کو نہیں دیا ( وما أعطى أحد عطاءً خيراً أو أوسع من الصبر ) ایک اور حدیث میں ہے کہ صبر مومن کا بھروسہ ہے ( الصبرُ معوّل المسلم )

صبر کے لفظی معنی رکنے کے ہیں ۔ امام راغب نے صبر کی حقیقت ان لفظوں میں بیان کی ہے :

‹ Previous page Next page › Contents of October 1989 All issues

Printed page