Al-Risala · October 1989 · page 41

محسن کشی کیوں

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۹، صفحہ ۴۱

کے بارے میں مختصر طور پر اور تیسرے دور کے بارہ میں زیادہ مفصل طور پر۔ دعوت کا دور محمد بن اسحق بیان کرتے ہیں کہ بیعت عقبہ سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگ کی اجازت یں دی گئی تھی اور خون بہانا آپ کے لئے حلال نہیں کیا گیا تھا۔ آپ کو حکم تھا کہ آپ لوگوں کو اللہ کی طرف بلائیں۔ اور تکلیفوں پر صبر کریں۔ اور جاہلوں سے روگردانی کریں۔ قریش کا یہ حال نہ تھا کہ آپ کی قوم میں سے جو لوگ آپ کی پیروی کرتے وہ ان پر ظلم کرتے۔ ان کے دین کے بارہ میں انھیں سخت آزمائش میں مبتلا کرتے۔ قریش نے ان کو ان کی بستیوں سے نکال دیا۔ چنانچہ آپ کے پیروؤں میں سے کچھ لوگ سخت آزمائش میں مبتلا ہو گئے۔ اور کچھ لوگ قریش کے ہاتھ سے تکلیفوں کا شکار ہوئے۔ اور کچھ لوگ ان سے بچنے کے لئے دوسرے علاقوں میں چلے گئے۔ ایک جماعت حبش چلی گئی۔ کچھ لوگوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی یا اور کسی طرف چلے گئے۔ جب قریش نے اس طرح اللہ کے مقابلہ میں سرکشی اختیار کی اور اللہ نے ان کے لئے جس عزت کا ارادہ کیا تھا اس کو رد کر دیا ، اور اپنے نبی کو جھٹلایا۔ اور ان لوگوں کو تکلیف دی اور جلا وطن کیا جنھوں نے اللہ کی عبادت کی اور اس کو ایک مانا اور اس کے دین کو مضبوطی سے پکڑ لیا ، اس وقت اللہ نے اپنے رسول کو جنگ کی اجازت دی اور ان لوگوں کے لئے حفاظت اور مدد کا وعدہ کیا جن پر ظلم اور زیادتی ہو رہی تھی۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ اس اجازت کے بارے میں سب سے پہلے سورۃ الحج (آیت ۳۹ - ۴۱) اتاری گئی۔ (سیرت ابن ہشام ، الجزء الثانی، صفحہ ۷۵ مکہ کا دور دعوت کا دور تھا۔ اس زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو حکم تھا کہ اپنی ساری توجہ صرف دعوت پر مرتکز رکھیں۔ غیر مسلموں کی طرف سے خواہ کتنی ہی دل آزاریاں کی جائیں اور کتنی ہی تکلیفیں پہنچائی جائیں ان پر کوئی رد عمل ظاہر نہ کریں۔ اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہوں۔ یک طرفہ طور پر صبر و برداشت پر قائم رہتے ہوئے دعوت کا مثبت کام جاری رکھیں۔

دعوت کا کام اس وقت تک انجام نہیں پا سکتا جب تک داعی کے دل میں مدعو کی خیر خواہی نہ ہو۔ یہ خیر خواہی اتنی زیادہ ہونی چاہئے کہ مدعو کی زیادتیوں کے باوجود اس کے حق میں داعی کے

‹ Previous page Next page › Contents of October 1989 All issues

Printed page