خلافت کا دور
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۹، صفحہ ۲۲
دل سے ہدایت کی دعائیں نکلتی رہیں۔ چنانچہ جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑایا اور آپ پر پتھر مارے، ان کے بارہ میں آپ نے یہ دعا فرمائی کہ خدایا، میری قوم کو ہدایت دے ؛ وہ نہیں جانتے ( رب اھد قومی فانھم لا یعلمون )
خلافت کا دور
خلافت کا دور اقتدار کا دور ہے۔ اقتدار ، عین اپنی طبیعت کے اعتبار سے بہت سی خرابیاں پیدا کرتا ہے۔ اس لئے دور خلافت ( دور اقتدار ) میں صبر کی اہمیت ہمیشہ سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
۱۔ دور خلافت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کے اندر عہدوں کی طلب بڑھ جاتی ہے۔ ہر آدمی یہ چاہنے لگتا ہے کہ اس کو ایک اچھا سیاسی عہدہ مل جائے۔ اگر یہ مزاج باقی رہے تو خلافت کا پورا نظام برباد ہو کر رہ جائے گا۔
یہاں صبر ( اپنی خواہشات کو روکنا ) اس بات کی ضمانت ہے کہ خلافت کے دور میں عہدوں کی طلب کی برائی نہ پیدا ہو۔ عہدے اگر اہلیت کی بنیاد پر دئے جائیں تو اس سے خلافت کا نظام طاقت ور ہوتا ہے۔ اس کے برعکس عہدے اگر خواہشات کی بنیاد پر دئے جانے لگیں تو خلافت کا پورا نظام کمزور ہو کر رہ جائے گا۔ ایسی حالت میں خلافت کے نظام کو صحت مند حالت پر باقی رکھنے کے لئے صبر کی صفت انتہائی طور پر ضروری ہے۔
دور اول میں اس کی ایک عظیم الشان مثال انصار کا اس پر راضی ہونا ہے کہ وہ عہدہ خلافت کے معاملہ میں قریش سے نزاع نہیں کریں گے۔ انصار نے اسلامی انقلاب لانے کے لئے یکساں طور پر قربانیاں دی تھیں ۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ کس شخص کو خلیفہ بنایا جائے تو حضرت ابو بکر صدیق نے ایک تقریر کی جس میں انھوں نے کہا کہ موجودہ حالات کا تقاضا یہ ہے کہ خلیفہ قریش میں سے ہو۔ اگر قریش کے باہر کسی کو خلیفہ بنایا جائے تو، تاریخی روایت کی بنا پر، اہل عرب کے لئے وہ قابل قبول نہ ہوگا اور لوگ اس کی اطاعت سے انکار کر دیں گے۔ انصار نے اس مصلحت کی اہمیت کو محسوس کیا اور خلافت کے مطالبہ سے دست بردار ہوگئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1989 All issues