Al-Risala · October 1989 · page 43

خلافت کا دور

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۹، صفحہ ۴۳

انصار کا یہ فعل بلا شبہ اسلامی تاریخ کا ایک عظیم الشان واقعہ ہے۔ اگر وہ اپنی قربانیوں کی فہرست بتا کر عہدہ خلافت کے لئے اصرار کرتے تو یقینی تھا کہ مسلمان اقتدار کی رسہ کشی میں مشغول ہوجاتے اور اسلام کی تاریخ بننے سے پہلے مدینہ میں دفن ہو جاتی۔ یہ واقعہ بلا شبہ صبر کا واقعہ ہے۔ انصار کے اندر اگر صبر کا مادہ نہ ہوتا تو وہ ہرگز یہ عظیم الشان کارنامہ انجام نکسیں دے سکتے تھے۔ ۲۔ حکومت ایک ایسی چیز ہے جس کا تعلق پورے ملک سے ہوتا ہے۔ ملک میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اچھے بھی اور برے بھی، جاہل بھی اور عالم بھی، نرم بھی اور سخت بھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خلیفہ (حمران) کو لوگوں کی طرف سے تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خلیفہ اگر لوگوں کی تنقیدوں کو برداشت نہ کرے اور اس کو ذاتی انتقام کا مسئلہ بنالے تو وہ کبھی انصاف نہیں کرسکتا۔ خلیفہ کو عدل پر قائم رکھنے کے لئے لازمی طور پر یہ صفت درکار ہے کہ وہ لوگوں کی تنقید وں کو برا نہ مانے۔ لوگوں کی سخت کلامی کے باوجود وہ ان کے ساتھ نرمی اور اعتدال کا رویہ اختیار کرے۔

خلیفہ اول حضرت ابو بکر کے ایک سرکاری فرمان کو ایک بار حضرت عمر نے برسر عام پھاڑ کر پھینک دیا مگر خلیفہ اول نے اس کو برا نہیں مانا اور نہ اس بنا پر ان کے دل میں عمر فاروق کی اہمیت کم ہوئی ۔ حضرت عمر فاروق جب خلیفہ ہوئے تو بار بار ایسا ہوا کہ لوگوں نے ان پر سخت الفاظ میں تنقیدیں کیں۔ مگر حضرت عمر نے کبھی ان کے خلاف منفی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ مثلاً ایک بار تقریر کے دوران برسر عام ایک شخص نے کہا کہ اگر ہم تمہارے اندر ٹیڑھا دیکھیں گے تو ہم اپنی تلوار سے تمھیں سیدھا کر دیں گے۔ خلیفہ ثانی اس پر غصہ نہیں ہوئے بلکہ یہ کہا کہ اس خدا کا شکر ہے جس نے مجھے ایک ایسی قوم میں بتلایا کہ اگر میرے اندر انحراف پیدا ہو تو وہ اپنی تلواروں سے مجھے سیدھا کر دے۔

خلیفہ کے اندر تنقید کو برداشت کرنے کا یہ مادہ انتہائی طور پر ضروری ہے۔ اس کے بغیر وہ ملک اور قوم کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتا۔ مگر یہ اعلیٰ صفت کسی شخص کے اندر اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ اس میں صبر کا مادہ موجود ہو۔ صبر ہی خلیفہ کو عدل پر قائم رکھتا ہے، اگر اس کے اندر صبر نہ ہو تو کوئی بھی چیز اس کو ظلم کی راہ پر جانے سے روک نہیں سکتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1989 All issues

Printed page