خبر نامه اسلامی مرکز - ۵۵
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۹، صفحہ ۴۷
کے ہاتھ اپنا سامان فروخت کرتے ہیں تو اس کو مرکز کی چھپی ہوئی کوئی انگریزی یا اردو کتاب بطور گفٹ (تحفہ) دیدیتے ہیں۔ یہ طریقہ دوسرے شہروں میں بھی کامیابی کے ساتھ چلایا جاسکتا ہے۔
-9 دہلی کے انٹلکچول فورم کی طرف سے ایک سمپوزیم ۲۸ جولائی ۱۹۸۹ کو ہوا۔ اس کی کارروائیاں ہماچل بھون (نئی دہلی) میں انجام پائیں۔ اس کا موضوع تھا : نیشنلزم اینڈ ٹکنالوجی زلم - صدر اسلامی مرکز کو اس میں خطاب کی دعوت دی گئی تھی۔ مگر ایک سفر کی وجہ سے وہ اس میں شرکت نہ کر سکے ۔ تاہم منتظمین کو موضوع سے متعلق کچھ لٹریچر روانہ کر دیا گیا۔ اس سمپوزیم کے کنوینر ڈاکٹر وجے کمار ملہوترا تھے۔
-۱۰ شتم رسول کے مسئلہ پر ایک مفصل کتاب تیار ہوئی ہے ۔ اس کی کتابت ۱۸۴ صفحہ پر مکمل ہوئی ہے ۔ اس کا نام " رشدیات " ہے ۔ ان شاء اللہ جلد ہی وہ چھپ کر شائع ہوجائے گی ۔
-۱۱ ایک قدیم اور مشہور دار العلوم (عربی درسگاہ) کے ایک طالب علم اپنے خط مورخہ ۴ جولائی میں لکھتے ہیں : یہاں دار العلوم میں ایک نیا سلسلہ چل نکلا ہے ۔ وہ یہ کہ طلبہ مجھ سے الرسالہ لیتے ہیں اور اس کے مضامین کا عربی ترجمہ کرتے ہیں ، صرف اس لیے کہ الرسالہ کی زبان اتنی معیاری اور عام فہم ہوتی ہے کہ اس سے عربی ترجمہ کی بہت اچھی مشق کی جاسکتی ہے ۔ میں نے عربی میں ترجمہ کرنا شروع کیا تو واقعی بہت زیادہ فائدہ محسوس ہوا۔ خصوصاً اس لیے کہ صرف ایک صفحہ کا مضمون ہوتا ہے ، اس لیے تھکاوٹ نہیں ہوتی۔ دوسرے دن نیا مضمون پھر سے نشاط پیدا کر دیتا ہے ۔ میرے بہت سے ساتھی الرسالہ کے قدیم نسخے میرے پاس سے لے جاکر عربی میں اور بعض طلبہ انگلش میں بھی ترجمہ کر رہے ہیں ۔ میں الحمد للہ روزانہ کم ازکم الرسالہ کے ایک مضمون کا عربی اور انگریزی دونوں میں ترجمہ کر رہا ہوں ۔ دوسروں کے مضامین میں اتنی پیچیدگی ہوتی ہے کہ ترجمہ کرتے وقت بار بار جھنجھلاہٹ ہوتی ہے ، لیکن الرسالہ کے مضامین کے ترجمہ میں ایک عجیب لطف محسوس ہوتا ہے۔ کیوں کہ جو بات بھی اس میں ہوتی ہے وہ بالکل صاف سیدھے اور ٹھیک اسلوب میں ہوتی ہے۔ بے باک انداز تحریر اور دو دو چار کی طرح واضح بات ہوتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1989 All issues