Al-Risala · October 1989 · page 46

خبر نامه اسلامی مرکز - ۵۵

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۹، صفحہ ۴۶

ایک دعوت نامہ کے تحت صدر اسلامی مرکز نے راجستھان کا سفر کیا اور خطابات کیے۔ یہ سفر ۲ جولائی کو شروع ہوا اور یکم اگست ۱۹۸۹ کو ختم ہوا۔ اس سفر کی روداد انشاء اللہ سفر نامہ کے تحت الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔

راجستھان کے سفر (جولائی ۱۹۸۹) میں وہاں کے مسلمانوں نے یہ کہا کہ ہماری ریاست ایک ہندی ریاست ہے۔ ہمارے بچے اب ہندی پڑھتے ہیں۔ ان کے لیے ہندی الرسالہ کی سخت ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں کہا گیا کہ انشاء اللہ الرسالہ کا ہندی ایڈیشن بھی جاری کیا جائے گا فی الحال وہاں کے بعض مقام پر یہ انتظام کیا گیا ہے کہ مسلم نو جوانوں کو اس پر آمادہ کیا گیا کہ وہ ہفتہ میں ایک بار کسی مقام پر جمع ہوں۔ کوئی اردو داں نوجوان الرسالہ کا ایک دو صفحہ پڑھ کر سنائے اور قابل فہم زبان میں اس کی تشریح کرے۔ رشیونگ میں اس نوعیت کا پہلا افتتاحی اجتماع ۲۹ جولائی کو کیا گیا۔ یہ طریقہ دوسرے مقامات پر بھی اختیار کرنا چاہیے ۔

ایک صاحب صلالہ (سلطنت عمان) سے لکھتے ہیں : اب ایسا ہو گیا ہے کہ زندگی کے معمولات کو برتنے سے بیشتر آپ کی تحریر راہ نمائی کا ذریعہ بننے لگی ہے۔ الرسالہ کا مطالعہ کرنے والا شخص کبھی غیر سنجیدہ ہو ہی نہیں سکتا۔ الرسالہ کی بڑی خوبی یہ ہے کہ بجھے ہوئے دماغ کو نئی روشنی عطا کرتا ہے اور حالات کے ماروں کو غیر معمولی توانائی بخشتا ہے۔ میں آپ کی کتابوں کو عیسائی اور غیر مسلم برادری میں اسلام کی اشاعت کا ذریعہ بنا رہا ہوں۔ بدقسمتی سے ان لوگوں کو ابھی تک کوئی صالح مواد فراہم نہیں کیا گیا۔ آج مسلمانوں کا جو بھی اخبار یا رسالہ ہے، سب نفرت کی تبلیغ کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ انشاء اللہ آپ کے پیغام اور الرسالہ کی دعوت کے ذریعہ یہ کام ہو سکے گا۔ (قطین اشرف صدیقی)

عتیق احمد خاں انجینئر نے بتایا کہ بنگلور میں مسیحی دکان دار ایسا کرتے ہیں کہ وہ اپنے گاہکوں کو سامان کے ساتھ اپنے مذہب کی کتاب بطور تحفہ دیتے ہیں۔ وہاں حلقہ الرسالہ (عبداللہ برمی صاحب وغیرہ) نے یہ تحریک چلائی کہ مسلمان دکاندار اسلامی مرکز کی کتابیں) اپنے گاہکوں کو تحفہ کے طور پر دیں۔ چنانچہ بہت سے دکاندار راضی ہو گئے۔ وہ جب کسی گاہک

‹ Previous page Next page › Contents of October 1989 All issues

Printed page