فکری سادگی
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۹، صفحہ ۱۲
ہوگیا۔ ہر آدمی جانتا ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ لفظی یکسانیت پیدا کرنے کے با وجود دونوں میں سماجی یکسانیت نہیں آئی، دونوں کے درمیان سابقہ تفریق بدستور پوری طرح باقی ہے۔ سبق آموز مثال جو لوگ فرقہ وارانہ مسئلہ پر گفتگو کرتے ہیں، وہ ہمیشہ ایک بنیادی غلطی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ وہ شمالی ہندوستان کو کل ہندوستان سمجھ لیتے ہیں ۔ اس بنا پر ان کا تجزیہ بھی نادرست ہوتا ہے اور ان کا پیش کردہ حل بھی نادرست ۔
زیر بحث مسئلہ کا ایک اہم ترین عملی پہلو یہ ہے کہ یہ ملک دو مختلف حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ ایک شمالی ہند، اور دوسرے جنوبی ہند۔ پچھلی نصف صدی کی تاریخ بتاتی ہے کہ جتنے بھی فرقہ وارانہ جھگڑے ہوتے ہیں، وہ سب کے سب شمالی ہند میں ہوتے ہیں۔ جنوبی ہند میں اس قسم کا کوئی جھگڑا نہیں ہوتا۔ اگر کبھی اتفاق سے کوئی فرقہ وارانہ جھگڑا جنوب کے علاقہ میں ہوا ہے، تو وہ شمالی ہند کے لوگوں ہی کا پیدا کردہ تھا جو کسی وجہ سے وہاں پہنچ گئے ۔ خود جنوبی ہند کے لوگوں نے کبھی اس قسم کا کوئی جھگڑا بر پا نہیں کیا۔ جب کہ وہ تمام فرقے جنوبی ہند میں بھی موجود ہیں جو شمالی ہند میں موجود ہیں۔ اور وہ تمام گروہ ہی وہاں بھی پائے جاتے ہیں، جو یہاں پائے جاتے ہیں ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ شمالی ہند میں ہم جس مسئلہ کو حل کرنے کی باتیں کرتے ہیں، وہ جنوبی ہند میں عملاً حل شدہ ہے، جب ایسا ہے تو سب سے پہلے ہمیں ملک کے دونوں علاقوں کے فرق کا مطالعہ کرنا چاہیے ۔ موجودہ صورت حال میں ہمیں اس کے سوا اور کچھ نہیں کرنا ہے کہ جنوبی ہند کو شمالی ہند تک وسیع کر دیں۔ جو کچھ ملک کے ایک حصہ میں جاری ہے ، اس کو ملک کے دوسرے حصہ میں جاری کر دیں۔ راقم الحروف نے جنوبی ہند کے کئی سفر کیے ہیں اور اس مسئلہ کو تفصیل کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ میرا حاصل مطالعہ ہے کہ اس فرق کی وجہ بالکل سادہ ہے۔ جنوبی ہند کے لوگوں میں تحمل (Tolerance) ہے ، جب کہ شمالی ہند کے لوگوں میں تحمل نہیں۔ جنوبی ہند کے لوگ اختلاف کے با وجود ایک دوسرے سے ٹکراؤ نہیں کرتے ۔ جب کہ شمالی ہند کے لوگوں کا حال ہے کہ اختلاف کا کوئی واقعہ سامنے آتے ہی وہ فوراً ٹکراؤ کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جنوبی ہند کا مزاج تحمل ہے، اور شمالی ہند کا مزاج عدم تحمل ۔ یہی وہ فرق ہے جس نے دونوں علاقوں کے درمیان
‹ Previous page Next page › Contents of November 1989 All issues