برداشت کی ضرورت
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۹، صفحہ ۱۳
یہ فرق پیدا کر دیا ہے کہ شمالی ہند میں فرقہ وارانہ جھگڑے زندگی کا معمول بن گئے ہیں، جب کہ جنوبی ہند میں فرقہ وارانہ جھگڑوں کا سرے سے کوئی وجود نہیں۔
اوپر کی مثال ایک عملی واقعہ کی صورت میں بتاتی ہے کہ فرقہ وارانہ مسئلہ کا حل کیا ہے۔ وہ حل یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ مزاج بنایا جائے کہ وہ فرقہ وارانہ اختلاف کے باوجود فرقہ وارانہ اتحاد کے ساتھ زندگی گزاریں۔ جو صورت حال آج بھی ملک کے ایک حصہ میں قائم ہے، وہی صورت حال ملک کے دوسرے حصہ میں قائم کر دی جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ فرقہ وارانہ مسئلہ کا حقیقی اور پائیدار حل صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ لوگوں کی سوچ کو درست کیا جائے ۔ ہمارے ملک کا یا دوسرے لفظوں میں شمالی ہند کا ، اصل مسئلہ یہ ہے کہ مختلف اسباب سے یہاں کے لوگوں کی سوچ بگڑ گئی ہے۔ یہی جڑ کی بات ہے۔ اور اس جڑ پر عمل کر کے ہی فرقہ وارانہ مسئلہ اور دوسرے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔
کسی سماج میں مختلف فرقوں کا ہونا بالکل فطری بات ہے، وہ ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ باقی رہیں گے ۔ ہمارے موجودہ سماج کی اصل برائی خود فرقوں کی موجودگی نہیں، بلکہ مختلف فرقوں کے درمیان تحمل (Tolerance) کی غیر موجودگی ہے۔ فرقہ واریت کا مسئلہ عدم تحمل کا پیدا کردہ ہے، نہ کہ خود فرقوں کی موجودگی کا پیدا کردہ۔
برداشت کی ضرورت
سماج میں مختلف سطحوں پر فرق اور اختلاف کا ہونا بالکل لازمی ہے۔ آپ سماج کے اوپر یکسانیت کا بلڈوزر نہیں چلا سکتے۔ روسی ڈکٹیٹر اسٹالن نے اپنے ملک میں بے طبقاتی سماج (Classless society) قائم کرنے کے لیے ۲۵ ملین انسانوں کو پیس ڈالا۔ پھر بھی وہ بے طبقاتی سماج بنانے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ پھر آپ اس ناممکن کام کو کس طرح ممکن بنا سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلہ کا قابل عمل صرف یہ ہے کہ لوگوں کے اندر تحمل کا مزاج اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا جذبہ پیدا کیا جائے ۔ انھیں اختلاف میں اتحاد (Unity in diversity) کا سبق دیا جائے۔ قومی اتحاد ہم کو اختلاف کے باوجود قائم کرنا ہے نہ کہ اختلاف کے بغیر۔ کیونکہ وہ ممکن ہی نہیں۔ قوم کے افراد کے اندر تحمل کا مطلوبہ مزاج پیدا کرنے کے لیے ہمیں وہی عمل کرنا ہے جس کو فینین
‹ Previous page Next page › Contents of November 1989 All issues