چھوٹا کام
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۹، صفحہ ۱۵
اپنے آپ کو وقف کر دیں گے ۔ وہ قوم کے اندر مثبت ذہن اور تعمیری مزاج بنانے میں اپنے زبان و قلم کی ساری طاقت خرچ کر دیں گے ۔ اور اس کام کو مسلسل جاری رکھیں گے ، یہاں تک کہ اسی پر ان کی موت آ جائے ۔ اگر ہماری قوم کے ذہین طبقہ کا ایک فی صد حصہ بھی یہ عزم کر لے تو مجھے یقین ہے کہ اس کا عزم ہمارے ملک کی تاریخ کو بدل سکتا ہے ۔
پنڈت موتی لال نہرو سے کسی نے ایک بار پوچھا کہ جس آزادی کے لیے آپ کوشش کر رہے ہیں ، وہ آزادی کب آئے گی ۔ انھوں نے جواب دیا کہ میں آزادی کا وقت تو نہیں جانتا ، مگر میں یہ جانتا ہوں کہ اگر میں نے اس راہ میں اپنی جان دے دی تو میری لاش پر آزادی کا محل تعمیر ہو کر رہے گا ۔ میں کہوں گا کہ ہمارے ملک کا دانشور طبقہ اگر تربیت شعور (Consciousness raising) کی مہم میں اپنے کو فنا کرنے کا عزم کر لے تو ہو سکتا ہے کہ وہ خود اپنے لیے کچھ نہ پا سکے ، مگر یہ یقینی ہے کہ اس کی قربانی قوم کو نئی زندگی دینے کا سبب بن جائے گی ۔
چھوٹا کام
تعمیر قوم کا کام تعمیر ذہن سے شروع ہوتا ہے ، یہ ایک نہایت واضح بات ہے ۔ یہ اتنی کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ اس کو سمجھنا کسی کے لیے مشکل نہیں ہو سکتا ۔ اس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ آج کوئی شخص نہیں جو اس اہم ترین کام میں اپنے آپ کو مصروف کیے ہوئے ہو ۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسرے کام جن میں لوگ مصروف ہیں ، وہ کہنے اور سننے میں بڑے کام معلوم ہوتے ہیں ۔ وہ فوراً اخبار میں چھپتے ہیں ۔ ان کے ذریعہ صبح و شام میں آدمی کو شہرت و مقبولیت حاصل ہو جاتی ہے ۔ یہی خاص وجہ ہے جس کی بنا پر تمام حوصلہ مند افراد جوق در جوق ان کاموں کی طرف دوڑے چلے جا رہے ہیں ۔ اور تعمیر شعور کا میدان بالکل خالی پڑا ہوا ہے ۔
تعمیر شعور کا کام بظاہر ایک چھوٹا کام معلوم ہوتا ہے ۔ وہ اخباروں میں نمایاں نہیں ہوتا ۔ اس کے نام پر بھیڑ جمع نہیں ہوتی ۔ اس کی اپیل پر بڑے بڑے چندے نہیں ملتے ۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اس کام کی اہمیت کو جانتے ہوئے بھی اس کی طرف راغب نہیں ہوتے ۔
اگر قوم کے اندر چند ایسے افراد پیدا ہو جائیں جو اعلیٰ صلاحیت رکھتے ہوں ، اور اسی کے ساتھ وہ اس بات کا ثبوت دیں کہ وہ چھوٹے کام کو بڑا کام سمجھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں تو اس کے فوراً بعد
‹ Previous page Next page › Contents of November 1989 All issues