Al-Risala · November 1989 · page 14

برداشت کی ضرورت

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۹، صفحہ ۱۴

سوسائٹی نے نفوذ کرنے (Permeation) سے تعبیر کیا ہے— یعنی شعور کو بدلنے کی ہم جاری کر کے لوگوں کے ذہنوں میں گھسنا اور ان کو اندر سے اس طرح بدل دینا کہ ان کے سوچنے کا ڈھنگ وہ ہو جائے جو کہ دراصل ہونا چاہیے قومی اتحاد اور قومی یک جہتی کا لفظ تو اس ملک میں پچھلی نصف صدی سے بولا جا رہا ہے، مگر اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کوئی حقیقی کام مطلق نہیں کیا گیا۔ یہ یقینی ہے کہ کانفرنس کرنا، یا پلے کارڈ لے کر سڑکوں پر مارچ کرنا وہ کام نہیں جس سے یہ مقصد حاصل ہو سکتا ہو۔ اس کام کے لیے شعور کی تربیت کی ایک طویل اور مسلسل مہم درکار ہے، مگر قومی اتحاد کا نعرہ لگانے والوں میں سے کوئی بھی اب تک اپنے آپ کو اس کام کے لیے فارغ نہ کر سکا۔

مثال کے طور پر صحافت اس ذہنی انقلاب کو لانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ آج ہمارے ملک میں ہزاروں کی تعداد میں اخبار اور رسالے نکل رہے ہیں۔ مگر ان میں سے کوئی ایک بھی اخبار یا رسالہ نہیں جو اس مقصد کے لیے وقف ہو۔ ہمارے تمام اخبار حقیقتاً سیاسی اخبار ہیں۔ اس کے بعد جو ہفت روزہ، پندرہ روزہ یا ماہنامہ ہیں وہ سنسنی خیز مضامین چھاپ کر سستی تجارت کرنے کے سوا کچھ اور نہیں جانتے۔ شعور سازی کے اداروں کا جب یہ حال ہو تو وقتی اپیل جاری کرنے سے کیا فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

راقم الحروف پچھلے ۲۵ سال سے اپنے آپ کو تعمیری صحافت کو وجود میں لانے کے لیے وقف کیے ہوئے ہے۔ ماہنامہ الرساله (اردو اور انگریزی میں) ملک کا واحد ماہنامہ ہے جو تعمیرِ شعور کا کام کر رہا ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ یہ کام اس سے زیادہ بڑا ہے کہ ایک یا دو ماہنامہ اس کو انجام دے سکے۔ رہنماؤں کی ذمہ داری حقیقت یہ ہے کہ عوام کو بدلنے کے لیے سب سے پہلے عوام کے رہنماؤں کو بدلنا ہے۔ ہماری قوم کے جو لکھنے اور بولنے والے ہیں، جن کو سن کر اور پڑھ کر لوگ اپنی رائیں بناتے ہیں، ان کی ایک فی صد تعداد بھی اگر اس قربانی پر آمادہ ہو جائے جو پہلی عالمی جنگ اور دوسری عالمی جنگ کے درمیان انگلینڈ کے فیمین لوگوں نے دی تھی۔ تو یقینی طور پر ہمارے ملک کا نقشہ بدل سکتا ہے۔ یہ لوگ یہ طے کر لیں کہ وہ سستی شہرت اور سستی تجارت کے راستہ کو چھوڑ کر خاموش تعمیری کام میں

‹ Previous page Next page › Contents of November 1989 All issues

Printed page