Al-Risala · November 1989 · page 18

عالمی نمونۂ عمل

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۹، صفحہ ۱۸

ہوگا۔ اسی طرح اگر ایک ملک اپنی صنعتی سرگرمیوں کے ذریعہ ہوا میں گیسوں کے تناسب کو بدل دے اور لوگوں کو سانس لینے کے لئے ضروری مقدار میں آکسیجن نہ ملے تو یہ بھی فساد فی الارض ہوگا۔ اسی طرح ایسا اقتصادی نظام جو دولت کی گردش کو یک طرفہ کر دے یا اشیاء کی ذخیرہ اندوزی کے نتیجہ میں مصنوعی قلت پیدا ہو جائے، یا جنگی جنون کے نتیجہ میں زمین کی دولت کا بڑا حصہ انسانی تعمیر کے بجائے انسانی تخریب میں استعمال ہونے لگے ، تو یہ سب فساد فی الارض ہے، وغیرہ۔

عالمی نمونۂ عمل

اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسانی دنیا کے نظام کو طبیعی دنیا کے نظام کے مطابق ہو نا چاہئے ۔ طبیعی دنیا کا نظام براہ راست خدا کا مقرر کیا ہوا ہے ۔ وہ ربانی معیار پر قائم ہے۔ دوسری طرف انسانی دنیا کا نظام خود انسان اپنے ارادہ سے قائم کرتا ہے۔ یہاں انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنی زندگی کے نظام کو طبیعی دنیا کے نمونہ پر قائم کرے ۔ طبیعی دنیا کے نمونہ کی پیروی کا نام اصلاح ہے اور اس سے انحراف کا نام فساد ۔ اس کی ایک مثال ستاروں کا نظام ہے۔ خلا میں بے شمار تارے ہیں۔ وہ سب کے سب حرکت کر رہے ہیں ۔ مگر یہ تمام ستارے ہمیشہ اپنے مدار پر حرکت کرتے ہیں ۔ وہ اپنے دائرہ سے نکل کر دوسرے دائرہ میں داخل نہیں ہوتے۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے کہ اور سورج ، وہ اپنی ٹھہری ہوئی راہ پر چلتا رہتا ہے۔ یہ عزیز و علیم کا باندھا ہوا اندازہ ہے۔ اور چاند کے لئے ہم نے منزلیں مقرر کر دی ہیں ، یہاں تک کہ وہ ایسا رہ جاتا ہے جیسے کھجور کی پرانی شاخ نہ سورج کے بس میں ہے کہ وہ چاند کو پکڑلے اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے۔ اور سب ایک ایک دائرہ میں تیر رہے ہیں ۔ (۳۸-۲۰ : ۳۶)

خلا میں لا تعداد چھوٹے بڑے ستارے ہیں۔ مگر ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مدار (Orbit) پر گھومتا ہے۔ کوئی ستارہ دوسرے ستارہ کی حد میں مداخلت نہیں کرتا۔ یہ گویا خدا کی طرف سے مقرر کیا ہوا ایک نمونہ عمل (Role-model) ہے ۔ انسان کو چاہئے کہ وہ بھی اسی نمونہ پر عمل کرے ۔ ایک انسان دوسرے انسان کی زندگی میں دخل اندازی کئے بغیر اپنی پوری زندگی

‹ Previous page Next page › Contents of November 1989 All issues

Printed page