Al-Risala · November 1989 · page 19

جبر و اکراہ نہیں

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۹، صفحہ ۱۹

کا سفر جاری رکھے۔

یہی وہ بات ہے جو حدیث میں اس طرح کہی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے میری طرف وحی کی ہے کہ تم لوگ تواضع اختیار کرو۔ یہاں تک کہ ایک شخص دوسرے شخص پر فخر نہ کرے، اور ایک شخص دوسرے شخص پر زیادتی نہ کرے (ان الله اوحى الى ان تواضعوا حتى لا يفخر احد على احد ولا يبغى احد على احد، مشكوة المصابيح الجزء الثالث، صفحه ۱۳۷۳)

جبر و اکراہ نہیں

قرآن میں اجتماعی زندگی کے بارہ میں جو احکام دئے گئے ہیں، ان میں سے ایک اہم حکم عدم اکراہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی کسی پر جبر نہ کرے، کوئی کسی کو اس کی ناپسندیدہ چیز کو اختیار کرنے پر مجبور نہ کرے۔ قرآن میں اس سلسلہ میں بنیادی اصول کے طور پر کہا گیا ہے کہ: لا اكراه في الدين (دین کے معاملہ میں زبردستی نہیں)

اکراہ نہ کرنے کا یہ اصول یک طرفہ نہیں ہے بلکہ دو طرفہ ہے۔ یہی اصول داعی کے لئے ہے، اور یہی اصول مدعو کے لئے۔ اسی اصول کی پابندی ہر انسان کو کرنی ہے، خواہ وہ ایک مذہب یا نظام سے تعلق رکھتا ہو یا دوسرے مذہب اور نظام سے۔ اس کی تائید میں یہاں دو مثالیں قرآن سے نقل کی جاتی ہیں۔

قرآن میں ایک پیغمبر (حضرت شعیب) کی دعوتی مہم کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ان کی قوم نے ان کی دعوت کے جواب میں کس قسم کا رد عمل پیش کیا۔ ارشاد ہوا ہے کہ ان کی قوم کے بڑے، جو متکبر تھے، انھوں نے کہا کہ اے شعیب، ہم تم کو اور ان لوگوں کو جو تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں، اپنی بستی سے نکال دیں گے، یا تم ہماری ملت میں واپس آجاؤ۔ شعیب نے کہا، کیا ہم اس کو ناپسند کرتے ہوں تب بھی (الاعراف ۸۸)

پیغمبر کا یہ جواب بتاتا ہے کہ پیغمبر نے اصولاً اس کو درست نہیں قرار دیا کہ ان کی قوم کے لوگ انھیں اپنے دین (شرک) کو اختیار کرنے پر مجبور کریں۔ پیغمبر اپنی قوم کو یہ حق دینے کے لئے تیار تھا کہ وہ اس کے سامنے اپنا دین پیش کریں، جس طرح خود پیغمبر اپنا دین ان کے سامنے

‹ Previous page Next page › Contents of November 1989 All issues

Printed page