دعوت اور عمل
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۰
دوسرے جہاد کا بھی ہوا۔
ان دونوں کوششوں میں ظاہری اعتبار سے بعض فرق تھے۔ مگر جہاں تک " اسلامی مجاہدین" کا تعلق ہے، دونوں مواقع پر ان کا بالکل یکساں انجام ہوا۔ غیر اسلامی عناصر دونوں بار غالب رہے اور مسلم مجاہدین دونوں بار مکمل طور پر ناکامی کا شکار ہو کر رہ گئے۔
یہی کہانی زیادہ بری شکل میں پاکستان میں دہرائی گئی۔ پاکستان میں سابق صدر جنرل محمد ایوب خاں کو اسلام کی راہ میں اصل رکاوٹ سمجھ لیا گیا ۔ سید ابو الاعلیٰ مودودی اور ان کے اسلام پسند ساتھی تنہا اپنی طاقت سے اس رکاوٹ کو دور نہیں کر سکتے تھے ۔ چنانچہ انھوں نے دوسری طاقتوں کو ساتھ لے کر ایوب خاں کو تخت سے بے دخل کرنے کی مہم چلائی ۔ اس مہم کو وہ اتنا زیادہ ضروری سمجھتے تھے کہ ایوب خاں کے مقابلہ میں انھوں نے ایک خاتون کو صدر کی حیثیت سے کھڑا کیا۔ حالاں کہ حدیث میں واضح طور پر موجود ہے کہ کوئی خاتون حکمران کسی ملک یا قوم کو فلاح کی طرف نہیں لے جاسکتی ۔ مگر سب یہ مہم کامیاب ہوئی تو صدر ایوب کی جگہ دوسرے اسلام دشمن افراد ملک کے حکمراں بن چکے تھے۔ یہی مہم دوبارہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذو الفقار علی بھٹو کے خلاف شروع کی گئی ۔ اسلام پسندوں اور غیر اسلام پسندوں کی متحدہ کوشش سے مسٹر بھٹو کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔ مگر اس کے باوجود " غیر اسلام " کو پھانسی پر چڑھانا ممکن نہ ہوسکا ۔ وہ بھٹو کے خاتمہ کے بعد بھی پاکستان میں پوری طرح زندہ ہے بلکہ پہلے سے بھی زیادہ ۔ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ مومن ایک بل سے دو بار نہیں ڈسا جاتا ۔ (المومن لا يلدغ من جحر مرتين) اس لحاظ سے ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا کہ مسلم رہنما ایک ہی غلطی کو بار بار دہرائے رہیں۔ مگر مذکورہ مثالیں حیرت انگیز طور پر بتاتی ہیں کہ وہ ایک ہی سیاسی بل سے بار بار ڈسے جارہے ہیں ۔ وہ ایک ہی ناکام سیاسی تجربہ کو بار بار دہراتے چلے جارہے ہیں۔ خدا کے دین کی یہ کیسی عجیب عملی تفسیر ہے جس کو موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ اگر وہ کہا نہیں جانتے تو کیا وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ کچھ نہ کریں ۔ اگر انھیں بولنا نہیں آتا تو کیا انھیں یہ بھی نہیں آتا کہ وہ اپنی زبان کو بند رکھیں ۔
آہ وہ لوگ، جنھیں کرنا نہیں آتا۔ پھر بھی وہ کرتے ہیں ۔ جنھیں بولنا نہیں آتا پھر بھی وہ بولتے۔ ہیں، صرف اس لیے کہ جو مواقع کار ابھی باقی ہیں، وہ بھی باقی نہ رہیں، یہاں تک کہ نہ کسی کے لیے کرنے کا کچھ موقع ہو اور نہ کچھ بولنے کا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1989 All issues