Al-Risala · November 1989 · page 29

دعوت اور عمل

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۹، صفحہ ۲۹

عبرت ناک

عرابی پاشا (۱۹۱۱ - ۱۸۳۹) مصر کے ایک سیاسی لیڈر تھے۔ ان کا نعرہ تھا: مصر للمصريين (مصر مصریوں کے لیے)۔ ان کے زمانہ میں مصر میں خدیو اسماعیل پاشا کی حکومت تھی۔ انھوں نے خدیو کو غدار قرار دیا۔ ان کو یہ شکایت تھی کہ خدیو اسماعیل پاشا مغربی طاقتوں کا ایجنٹ ہے چنانچہ انھوں نے خدیو اسماعیل پاشا کے خلاف بغاوت کر دی۔ یہ ۱۸۸۱ء کا واقعہ ہے۔ مگر ان کی بغاوت مکمل طور پر ناکام رہی۔ خدیو اسماعیل پاشا نے اپنے بچاؤ کے لیے برطانیہ سے مدد مانگی۔ برطانیہ نے فوراً ان کی پکار پر لبیک کہا۔ چنانچہ برطانی فوجوں کی مدد سے بغاوت کچل دی گئی اور عرابی پاشا کو گرفتار کر لیا گیا۔ مزید یہ ہوا کہ ۱۸۸۲ میں مصر پر برطانیہ کا اقتدار قائم ہو گیا۔

اس بغاوت میں عرابی پاشا کا جن لوگوں نے ساتھ دیا ان میں فوجی لوگوں کے علاوہ مشہور دینی مصلح شیخ محمد عبدہ (۱۹۰۵- ۱۸۴۹) اور ان کے ساتھی بھی شامل تھے۔ تاہم شیخ محمد عبدہ اور ان کے ساتھیوں کی شمولیت کے باوجود بغاوت کامیاب نہ ہوسکی۔ "اسلام" کو مصر کا تخت دلانے کی کوشش میں " انگریز" مصر کے تخت پر قابض ہوگئے ۔

شیخ محمد عبدہ اسلام کے علم بردار تھے ۔ دوسری طرف انگریز غیر اسلام کا جھنڈا اٹھائے ہوئے تھے۔ مگر اس کے مقابلہ میں اسلام کے علم بردار مکمل طور پر ناکام رہے ۔ اور غیر اسلام کے علم برداروں کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی ۔

یہ ایک واضح مثال تھی کہ محض اسلام کے نام پر جھنڈا لے کر اٹھنا مقابلہ کی اس دنیا میں کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔ کامیابی کے لیے حقیقی حالات کی مساعدت بھی ناگزیر طور پر ضروری ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اسی مصر میں ٹھیک یہی ناکام کہانی دوبارہ ۱۹۵۲ میں دہرائی گئی ۔ ۱۸۸۱ کے " اسلامی جہاد" کا نشانہ خدیو اسماعیل پاشا تھا ۔ اور ۱۹۵۲ کے " اسلامی جہاد" کا نشانہ شاہ فاروق الاول تھا ۔ پہلے جہاد کے قائد عرابی پاشا تھے اور ان کے ساتھ مفتی محمد عبدہ اور ان کی جماعت شریک تھی ۔ دوسرے جہاد کے قائد جمال عبدالناصر تھے اور سید قطب اور ان کی جماعت حامی انقلاب بن کر ان کے ساتھ شریک ہوگئی ۔ مگر جو انجام پہلے جہاد کا ہوا تھا، عین وہی انجام

‹ Previous page Next page › Contents of November 1989 All issues

Printed page