Al-Risala · November 1989 · page 32

دعوت اور عمل

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۲

کیوں کہ زمانہ کی رفتار آگے جاچکی۔ اسی طرح کبھی ایک شخص آگے جانا چاہتا ہے، مگر وہ نہیں جاسکتا، کیوں کہ وہ زمانہ سے پیچھے رہ گیا۔

گاڑی تیزی کے ساتھ لوہے کی پٹری پر دوڑا رہی تھی۔ میں نے سوچا کہ یہ پٹریاں اگر مٹی کی ہوں، کیا تب بھی گاڑی اسی طرح دوڑے گی ۔ دل نے کہا کہ نہیں۔ پھر میری نظر دونوں طرف پھیلے ہوئے سرسبز درختوں کی طرف گئی۔ میں نے سوچا کہ ان درختوں کی جڑوں میں اگر مٹی کے بجائے لوہا ہو، تب بھی کیا یہ درخت اسی طرح ہرے بھرے ہو کر کھڑے رہیں گے۔ دل نے دوبارہ کہا کہ نہیں۔ گاڑی مٹی پر نہیں چل سکتی۔ درخت لوہے پر نہیں اگ سکتا۔

یہ اس دنیا کے لئے خدا کا قانون ہے۔ یہاں وہی شخص اپنی گاڑی تیز دوڑ سکتا ہے جس نے اس کے نیچے لوہے کی پٹریاں بچھائی ہوں۔ اسی طرح یہاں وہی شخص ہرے بھرے باغ کا مالک بن سکتا ہے جس نے اپنے درخت کو نرم مٹی میں اگایا ہو۔ اس دنیا میں ہر چیز کا ایک قانون ہے۔ یہاں وہی شخص کسی چیز کو پاتا ہے جس نے اس کے لئے مخصوص قانون کے مطابق اس کو پانے کی کوشش کی۔ ہو۔ ٹرین تیزی کے ساتھ دہلی سے راجستھان کی طرف دوڑ رہی تھی۔ میں نے کھڑکی سے باہر کی طرف دیکھا تو سورج افق کے نیچے جارہا تھا تاکہ کچھ دیر کے بعد غروب ہو جائے۔ بظاہر یہ دونوں الگ الگ واقعات تھے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دونوں ایک تھے۔ دونوں خود ٹرین کے دو سفروں کو بتا رہے تھے۔ ٹرین اپنے انجن کے زور پر دہلی سے راجستھان کی طرف دوڑ رہی تھی۔ دوسری طرف زمین کی گردش کے تحت اس کا دوسرا سفر جاری تھا۔ یہ سفر اس کو دن سے رات کی طرف لے جارہا تھا۔ ٹرین ایک اعتبار سے دہلی سے راجستھان کی طرف جارہی تھی اور دوسرے اعتبار سے دن سے رات کی طرف۔

اس دنیا میں آدمی کا ایک سفر وہ ہے جو وہ اپنے ارادہ سے کرتا ہے۔ دوسرا سفر وہ ہے جو قضا و قدر کے حکم کے تحت جاری ہے۔ اسی سے جبر و قدر کے معاملہ کو سمجھا جاسکتا ہے۔ اس دنیا میں آدمی جبر و اختیار کے درمیان ہے۔ ایک اعتبار سے وہ آزاد ہے کہ وہ جدھر چاہے چلا جائے۔ دوسرے اعتبار سے

‹ Previous page Next page › Contents of November 1989 All issues

Printed page