دعوت اور عمل
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۳
خاں کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ۔ وہ ایک بھاری گاڑی کے نیچے آگئے ۔ ان کو سخت زخم آئے اور ان کے دائیں پاؤں کی ایک ہڈی ٹوٹ گئی ۔ بوقتِ سفروہ ولنگڈن نرسنگ ہوم (کمرہ نمبر ۳۸) میں داخل تھے ۔ اس حادثہ کی تفصیل بڑی درد انگیز اور غم انگیز ہے۔ خلاصہ یہ کہ میں نہایت دل شکستہ حالت میں دہلی سے روانہ ہوا۔ رات کے وقت ٹرین میں سویا تو نیند نہیں آرہی تھی ۔ تین گھنٹہ تک اپنی برتھ پر کروٹیں بدلتا رہا ۔ اس کے بعد چھپکی کے ساتھ ایک نیند آئی ۔ اسی حالت میں خواب دیکھا کہ ظفر الاسلام کرتا اور پائجامہ پہ ہوئے ہیں اور بالکل نارمل انداز میں چلتے ہوئے میری طرف آرہے ہیں ۔
یہ خواب ۲۷ جولائی اور ۲۸ جولائی کی درمیانی رات میں ٹرین کے اندر دیکھا ۔ اس کو میں نے اللہ کی طرف سے بشارت سمجھا ۔ اس کے بعد دل کو سکون آگیا اور پھر جلد ہی نیند آگئی ۔ اسی قسم کا خواب دہلی واپس آنے کے بعد دوبارہ ۸ اگست اور تیسری بار ۱۵ اگست ۱۹۸۹ کو دیکھا ۔ حادثہ کے تین مہینے بعد اب خدا کے فضل سے یہ خواب واقعہ بن چکا ہے ۔ اس دنیا میں حادثات بھی ہیں ، اور اسی کے ساتھ حادثات کی تلافی کے لئے خدا کی طرف سے خصوصی انتظام بھی۔ دہلی کا ایک سہ روزه مسلم اخبار ہے۔ اس کی پیشانی پر قرآن کی ایک آیت کا ترجمہ ان لفظوں میں لکھا ہوا ہوتا ہے : اس شخص سے بہتر کس کی بات ہوسکتی ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں ۔ اس اخبار کے شمارہ ۲۲ جولائی ۱۹۸۹ میں راجستھان کے بارے میں " ایک خصوصی رپورٹ " نقل کی گئی ہے ۔ اس رپورٹ کا پہلا پیراگراف یہ ہے :
" آرایس ایس ، وشو ہندو پریشد اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے مل کر گزشتہ پانچ مہینوں سے پورے راجستھان کو فرقہ پرستی کی آگ میں جھونک دیا ہے ۔ "
یہ " راجستھان کے سترہ اضلاع میں فسادات کی سازش " کے بارہ میں ایک مفصل رپورٹ تھی۔ اس کو پڑھنے کے بعد جب میں ۲۷ جولائی کی شام کو راجستھان جانے کے لئے آٹوم اکسپریس پر سوار ہوا تو میں نے سمجھا کہ میں ایک ایسی دنیا میں جارہا ہوں جہاں ہر طرف آگ کے شعلے مجھے جھلسانے کے لئے بھڑک رہے ہوں گے ۔ مگر عجیب بات ہے کہ اردو اخبار کا یہ راجستھان سفر میں نظر نہ آیا ۔ مجھے
‹ Previous page Next page › Contents of November 1989 All issues