Al-Risala · November 1989 · page 47

An Advanced history of India, p. 495.

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۹، صفحہ ۴۷

۸- ایک صاحب لکھتے ہیں : ماہ نومبر ۱۹۸۸ میں پہلی بار خاتونِ اسلام نظر سے گزری۔ اس سے کافی قبل الرسالہ کے ذریعہ آپ کا تعارف ہو چکا تھا۔ چوں کہ دین کی طرف دل چسپی کم تھی ۔ اس لیے پہلے کئی خاص توجہ نہ دی۔ خاتونِ اسلام کے پڑھنے کے بعد آپ کے لٹریچر پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔ خاتونِ اسلام کے بعد پرانے رسالوں کا مطالعہ شروع کیا۔ میرا شوق دن بدن بڑھتا گیا۔ جوں جوں مطالعہ کرتا تینوں تینوں آپ سے ملنے کی خواہش بڑھتی گئی۔ اور ساتھ ساتھ یہ خواہش تھی کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو الرسالہ کے ذریعہ آپ کا تعارف کراؤں جب میں دعوت دیتا تھا تو کوئی پڑھے لکھے لوگوں نے کہا کہ مولانا مسلمانوں کو بزدلی سکھلاتے ہیں ۔ میری کم علمی یا کم عقلی سمجھۓ کہ میں بھی اس مرض کا شکار ہو گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ شکر ہے کہ ۲۵ مئی کو آپ سے ملنے کا شرف حاصل ہوا۔ آپ نے میری غلط فہمی کو دور کیا۔ اور ساتھ ہی ساتھ آپ کی کتاب " حل یہاں ہے " پڑھنے کا مشورہ دیا۔ جس کا میں بہت مشکور ہوں۔ میں مطالعہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ آپ جو کچھ پیش کرتے ہیں قرآن اور حدیث کی روشنی میں پیش کرتے ہیں پھر بھی بہت سے لوگ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ میرے خیال میں لوگ سنی سنائی باتوں پر یقین کر لیتے ہیں، اور میری طرح اس قسم کے لوگ آپ کے لٹریچر کے مطالعہ سے کورے ہیں ۔ تاریخ شاہد ہے کہ حق کی بات کرنے والوں کی ہمیشہ مخالفت کی گئی ہے اور یہ سلسلہ قیامت تک چلتا رہے گا ۔ حق ہمیشہ باطل پر غالب رہا ہے اور رہے گا۔ (حمید اللہ خاں ، کلکتہ)

۹- ایک صاحب لکھتے ہیں : ماہنامہ الرسالہ ہمارے یہاں آتا ہے ۔ میں برابر اس کو پڑھتا ہوں ۔ ہرماہ الرسالہ کا بے چینی کے ساتھ انتظار رہتا ہے ۔ ماشاء اللہ بہت اچھا رسالہ ہے۔ میرے پاس جب دو چار الرسالہ جمع ہو جاتے ہیں تو ان کو میں جناب ابراہیم یوسف باوا کو انگلینڈ بھیج دیتا ہوں۔ باوا صاحب انگلینڈ میں رہتے ہیں اور وہاں ادارہ اشاعت الاسلام کے نام سے ایک ادارہ چلاتے ہیں ۔ یا وا صاحب نے اپنے خط میں الرسالہ کی ہر لحاظ سے کافی تعریف کی ہے ۔ (سید مجیب الرحمن ، دہلی)

‹ Previous page Next page › Contents of November 1989 All issues

Printed page