Al-Risala · November 1989 · page 46

An Advanced history of India, p. 495.

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۹، صفحہ ۴۶

(Eye Donation and Islam)

ٹائمس آف انڈیا ۷ ستمبر ۱۹۸۹ (صفحہ ۳) پر اس کی مفصل رپورٹ شائع ہوئی ۔ اس میں سب سے زیادہ کو رج صدر اسلامی مرکز کی تقریر کو دیا گیا ہے ۔ اس سیمنار میں مختلف مذاہب کے چالیس اہل علم اور اسکالر شریک ہوئے تھے ۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلم علماء اگر ایسے اجتماعات میں شریک ہوں تو اس سے اسلامی دعوت کو کتنا زیادہ فائدہ ہو ۔ مگر موجودہ صورت حال یہ ہے کہ سارے ملک میں کوئی بھی عالم نہیں جو مشترک اجتماعات یا مختلف مذاہب کانفرنسوں میں شرکت کرتا ہو ۔ صدر اسلامی مرکز تنہا عالم ہیں جو ہندوستان اور ہندوستان کے باہر اس قسم کے مواقع پر شرکت کرتے ہیں ۔ اور بین مذاہب اجتماعات میں اسلامی دعوت پیش کر رہے ہیں ۔

۵۔ مرکز کی دو کتابیں ، سچا راستہ اور دینی تعلیم اس سے پہلے تلگو زبان میں شائع کی گئی تھیں ۔ اب " سچا راستہ " کا تلگو ترجمہ دوبارہ زیادہ اہتمام کے ساتھ شائع کیا گیا ہے ۔ اس کو حاصل کرنے کا پتہ یہ ہے :

الرسالہ اکیڈمی ، ۱۹/۲-۷۸۰ - ۵-۳ ، اعظم منزل ، کنگ کو ٹھی، ، حیدر آباد ۶۔ جناب ولی محمد صاحب انصاری (دھولیہ) نے جینت بابو راؤ شمسی صاحب کو انگریزی کتاب گائیڈ ارائرز پڑھنے کے لیے دی ۔ جناب شمسی صاحب کو پڑھنے کے بعد یہ کتاب پسند آئی اور انھوں نے مرہٹی زبان میں اس کا ترجمہ کرنے کی پیش کش کی ۔ چنانچہ اب انھوں نے پوری کتاب کا مرہٹی ترجمہ مکمل کر لیا ہے ۔ جناب جینت بابو راؤ شمسی صاحب نے یہ پورا ترجمہ رضا کارانہ طور پر کیا ہے ۔

ہندوستان سے مسلم قانون دانوں کا ایک وفد مارٹیش گیا جو وہاں کی سپریم کورٹ میں مسلم پرسنل لاء کے ایک مقدمہ میں مسلمانوں کی طرف سے بیان اور شہادت دے ۔ یہ سماعت اکتوبر ۱۹۸۹ کے پہلے ہفتہ میں ہوئی ۔ اس وفد میں انگریزی داں عالم کی حیثیت سے صدر اسلامی مرکز کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی ۔ مگر انھیں دنوں ایک اور بیرونی سفر پیش آنے کی وجہ سے موصوف اس وفد میں شرکت کی دعوت قبول نہ کر سکے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1989 All issues

Printed page