تین منٹ
الرسالہ، فروری ۱۹۸۹، صفحہ ۳
تین منٹ
۹ ستمبر ۱۹۸۸ کا واقعہ ہے۔ ویت نام ائیر لائنز کا ایک روسی ساخت کا ہوائی جہاز ہنوئی سے اڑا۔ اس کی پہلی منزل بینکاک تھی جہاں اس کو ڈون مونگ (Don Muang) ائیر پورٹ پر اترنا تھا۔ اس جہاز میں عملہ کے پانچ افراد سمیت کل ۸۱ مسافر تھے۔ جن میں گیارہ ہندوستانی باشندے شامل تھے۔
جہاز بینکاک کے قریب پہنچ کر نیچے آنے لگا۔ اناؤنسر نے اعلان کیا کہ تھوڑی دیر کے بعد ہمارا جہاز بینکاک کے ہوائی اڈہ پر اترے گا۔ جن مسافروں کی منزل بینکاک تھی، ان کے چہروں پر ایک نئی روشنی چمک اٹھی۔ ہر ایک چشم تصور میں ان لوگوں کو دیکھنے لگا جو ہوائی اڈہ پر مسکراتے ہوئے چہرہ کے ساتھ اس کے استقبال کے لئے کھڑے ہوئے تھے۔ ہر ایک کے ذہن میں اپنے اس گھر کا نقشہ آگیا جہاں پہنچ کر وہ اپنے لوگوں کے درمیان خوشی اور سکون کے لمحات حاصل کرے گا۔
یہ دو پہر سے کچھ پہلے کا وقت تھا۔ اس وقت بینکاک میں شدید بارش ہو رہی تھی۔ جہاز کو ہوائی اڈہ تک پہنچنے میں صرف تین منٹ باقی تھے کہ زبردست کڑک چمک ہوئی۔ ایک چشم دید گواہ نے بتایا کہ عین اس وقت جہاز پر بجلی گر پڑی جب کہ وہ "بینکاک ائیر پورٹ کے قریب پہنچ چکا تھا۔ جہاز میں فوراً آگ لگ گئی۔ وہ ہوائی اڈہ کے قریب دھان کے کھیت میں گر پڑا ۔ جہاز کے ۷۵ مسافر اسی وقت ہلاک ہوگئے۔ چھ مسافر جھلسی ہوئی حالت میں زندہ بچے جو اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہیں (ہندوستان ٹائمس ۱۱ ستمبر ۱۹۸۸)
اس طرح کے واقعات دراصل خدا کی نشانی ہیں۔ وہ چند آدمیوں کی مثال کی روشنی میں تمام آدمیوں کا حال بتاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو انجام ” بینگ کاک “ کے مسافروں کا ہوا ، وہی انجام تمام انسانوں کا ہونے والا ہے۔ ہر آدمی کے ساتھ یہ واقعہ پیش آنے والا ہے کہ اس کے ” جہاز “ پر عین اس وقت موت کی بجلی گر پڑے جب کہ وہ اپنی منزل سے صرف تین منٹ کے فاصلہ پر ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1989 All issues