Al-Risala · February 1989 · page 4

کامیابی کا ٹکٹ

الرسالہ، فروری ۱۹۸۹، صفحہ ۴

کامیابی کا ٹکٹ

موجودہ زمانہ میں کامیابی حاصل کرنے کی سب سے زیادہ یقینی تدبیر تعلیم ہے جن لوگوں نے اس راز کو جان لیا ہے وہ اس سے زبردست فائدہ حاصل کر رہے ہیں ۔

۱۔ امریکہ میں ہر سال ایک تعلیمی مقابلہ ہوتا ہے جس میں پورے ملک کے طلبہ شریک ہوتے ہیں۔ اس میں امریکہ کے چھ ممتاز سائنسی طلبہ (Top 6 science students) کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ ۱۹۸۷ میں جب اس قسم کے چھ ممتاز ترین امریکی طلبہ کا انتخاب کیا گیا تو اس میں ایک ہندوستانی لڑکی کیشانی بھوشن کا نام بھی شامل تھا۔ اس کو بالڈون کالج (Mary Baldwin College) سے ایک ہزار ڈالر ماہانہ کا وظیفہ دیا جائے گا ( ہندوستان ٹائمز ۳۰ اگست ، ۱۹۸۷)

۲۔ دہلی کے ۲۱ مارچ کے اخبارات میں ایک خبر تھی۔ انڈین ایکسپریس (۲۱ مارچ ۱۹۸۸) نے اس کا عنوان ان الفاظ میں قائم کیا تھا کہ ہندوستانی لڑکا امریکہ کے سائنسی مقابلہ میں ٹاپ کرتا ہے : Indian boy tops in US science competition ۳۔ امریکہ میں مختلف قسم کے سائنسی مقابلے ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک خاص مقابلہ وہ ہے جس کو ویسٹنگ ہاؤس سائنسی صلاحیت جانچ (Westinghouse Science Talent Search) کہا جاتا ہے۔ ۱۹۸۸ میں اس کا ۴۷ واں سالانہ مقابلہ ہوا۔ اس مقابلہ میں جو طالب علم اول آیا وہ ایک ہندوستانی طالب علم تھا جس کا نام چییتن نانک ہے۔ اس کو ۲۰ ہزار ڈالر سالانہ تعلیمی وظیفہ دیا جائے گا تاکہ وہ اپنی مزید تعلیم حسن و خوبی جاری رکھ سکے۔ ماضی میں ویسٹنگ ہاؤس مقابلہ میں کامیاب ہونے والے پانچ طالب علموں نے بعد کو نوبیل انعام حاصل کیا۔

تعلیم موجودہ زمانہ میں کامیابی کا ٹکٹ (Ticket to success) ہے۔ تعلیم کے ڈگری والے نظام نے کامیابی کے اس زینہ کو ہر آدمی کے دروازہ تک پہنچا دیا ہے۔ اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے صرف ایک چیز کی ضرورت ہے اور وہ محنت ہے۔ آدمی اگر محنت اور دانش مندی کے ساتھ اس امکان کو استعمال کرے تو ہر جگہ وہ اعلیٰ ترین کامیابی حاصل کر سکتا ہے ، خواہ وہ امریکہ ہو یا ہندوستان یا اور کوئی ملک ۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1989 All issues

Printed page