Al-Risala · December 1989 · page 5

ترک فاتح

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۵

یہ عین وہی تدبیر تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدہ حدیبیہ کے وقت اختیار فرمائی، اور جس کے ذریعہ آپ نے مکہ کے قریش کو خیبر کے یہودیوں سے کاٹ دیا تھا۔ اس معاہدہ کے تحت قریش اس کے پابند ہو گئے تھے کہ بوقت جنگ وہ یہود کی مدد نہیں کریں گے۔

ان تمام تیاریوں کے بعد سلطان محمد خاموش نہیں بیٹھا۔ بلکہ اس نے جنگی کارروائی کی کمان براہ راست اپنے ہاتھ میں لے لی۔ پوری مہم کے دوران وہ بذات خود اس میں شریک رہا۔ قسطنطنیہ کی مہم کی تیاری اور اس کی کارروائیوں کی تفصیل بہت لمبی ہے۔ اس کو تاریخ کی کتابوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ اس زبر دست منصوبہ بندی کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۱۴۵۳ء میں قسطنطنیہ فتح ہو گیا۔ باز نطینی شہنشاہیت کا آخری تاجدار قسطنطین (Constantine XI) جنگ کرتا ہوا شہر کے دروازے پر مارا گیا۔ ترکی میں مسلمانوں کی فتح تکمیل کو پہنچ گئی۔

اس فتح کے بعد ترکی کی راجدھانی ادرنہ (ایڈریا نوبل) کے بجائے قسطنطنیہ قرار پائی اور آج تک وہ وہیں قائم ہے۔ اب اس کا نام استنبول ہے، قسطنطنیہ گیارہ سو سال سے زیادہ مدت تک مسیحی سلطنت کی راجدھانی تھا۔ اس کے بعد وہ مسلم سلطنت کی راجدھانی بنا۔ تقریباً پانچ سو سال تک وہ عظیم عثمانی خلافت کی راجدھانی اور پورے عالم اسلام کی سیاسی طاقت کا مرکز رہا ہے۔ اس کی یہ حیثیت پہلی بار صرف جنگ عظیم اول (۱۸-۱۹۱۴ء) میں ختم ہوئی۔

فتح مکہ (۶۳۰ء) سے لے کر فتح قسطنطنیہ (۱۴۵۳ء) تک اسلامی تاریخ کے تمام بڑے بڑے فاتحانہ واقعات گہری حکمت اور عظیم منصوبہ بندی کے ذریعہ انجام پائے ہیں۔ یہ صرف موجودہ زمانہ کی بات ہے کہ مسلمان تدبیر اور منصوبہ بندی کے بغیر محض جوش وخروش کے ذریعہ کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں، یہی واحد وجہ ہے جس کی بنا پر بالا کوٹ مارچ (۱۸۳۱ء) سے لے کر اجودھیا مارچ (۱۹۸۹ء) تک ان کے تمام اقدامات صرف ناکامی پر ختم ہو رہے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues

Printed page