ترک فاتح
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۶
قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يقول : اللهم العن فلانا وفلانا ، اللهم العن الحارث بن هشام اللهم العن سهيل بن عمرو اللهم العن صفوان بن أمية - فنزلت الآية (ليس لك من الأمر شيء او يتوب عليهم او يعذبهم فانهم ظالمون) فتیب عليهم كلهم - وقال احمد حدثنا ابو معاوية المدائنی حدثنا خالد بن الحارث حدثنا محمد بن عجلان عن نافع عن عبد الله أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يدعو على اربعة فانزل الله (ليس لك من الامر شيء) قال وهداهم الله للاسلام (تفسير ابن كثير ، الجزء الاول ، صفحه (۴۰۲)
ترجمه : امام احمد نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ میں) یہ کہتے تھے کہ اے اللہ ، فلاں اور فلاں پر لعنت کر ، اے اللہ حارث بن ہشام پر لعنت کر ، اے اللہ سہیل بن عمرو پر لعنت کر ، اے اللہ ، صفوان بن امیہ پر لعنت کر ، تو قرآن میں یہ آیت اتری کہ تم کو اس معاملہ میں کوئی اختیار نہیں ۔ اللہ یا ان کو تو بہ کی توفیق دے گا یا ان کو عذاب دے گا ، کیوں کہ وہ ظالم ہیں (آل عمران (۱۲۸) پھر ان سب کو توبہ کی توفیق ملی (اور وہ ایمان لائے امام احمد نے ایک اور روایت اس طرح نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مشرکوں میں سے چار آدمیوں کے خلاف بد دعا کرتے تھے تو اللہ نے یہ آیت اتاری کہ تم کو اس معاملہ میں کوئی اختیار نہیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ اللہ نے ان چاروں آدمیوں کو اسلام کے ذریعہ ہدایت دی ۔
اس حدیث میں جن کافروں اور مشرکوں کا ذکر ہے ، انھوں نے خود قرآن کے بیان کے مطابق " ظلم " کا ارتکاب کیا تھا ۔ ان کی برائی اتنی واضح تھی کہ خود پیغمبر اسلام کی زبان سے ان کے خلاف لعنت اور بد دعا کے کلمات نکلنے لگے۔ اس کے باوجود نہ صرف ایسا ہوا کہ ان کے خلاف لعنت اور بد دعا سے روک دیا گیا بلکہ ان سب کے اندر آخر کار نیا ذہن ابھرا ، اور ان سب نے اسلام قبول کر لیا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues