زندہ لوگ
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۷
زندہ لوگ
مسٹر ایڈون رین گولڈ (Edwin M. Reingold) ایک سینیر امریکی جرنلسٹ ہیں۔ وہ 1969 میں ٹائم میگزین کے ٹوکیو بیورو کے چیف مقرر ہوئے ۔ اس طرح وہ پچھلے 20 سال سے جاپان اور جاپانیوں کا مطالعہ کرتے رہے ہیں۔
مسٹر رین گولڈ نے اپنے 20 سالہ تجربہ کی روشنی میں جاپان کے بارہ میں ایک مضمون لکھا ہے جو ٹائم (5 جون (1989) میں چھپا ہے ۔ انھوں نے جو باتیں لکھی ہیں، ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ جاپانی اگرچہ بظاہر جامد قسم کے لوگ معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن جب وہ ایک چیز کے بارہ میں طے کرلیں کہ وہ ان کے لیے مفید ہے تو اس کے بعد وہ نہایت تیزی سے متحرک ہو سکتے ہیں :
Even though the Japanese appear to be quite rigid, they can move quickly once they've decided it's to their advantage (p. 5). یہی زندہ قوم کی سب سے زیادہ یقینی پہچان ہے۔ زندہ انسان کے لیے ماننے اور کرنے میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ زندہ لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب ان پر کسی اصول کی صداقت واضح ہو جائے تو عین اسی وقت وہ اس کے لیے پوری طرح متحرک ہو جاتے ہیں۔ وہ جس چیز کا اقرار کرتے ہیں اسی پر عمل کرتے ہیں۔ اور جس چیز پر عمل کرتے ہیں وہ وہی ہوتی ہے جس کا وہ اقرار کر چکے ہیں۔ یہی صلاحیت مومن کے اوپر کمال درجہ میں ہوتی ہے۔ عام انسان کو اس کا مفاد متحرک کرتا ہے۔ مومن کو حرکت میں لانے کے لیے یہ کافی ہے کہ کسی چیز کی صداقت اس کے اندر واضح ہوجائے۔ مومن اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ ایک بات جو دلیل سے برحق ثابت ہو گئی ہو، اس کے لیے وہ حرکت میں نہ آئے ۔ وہ اپنی زندگی اس کے لیے وقف نہ کر دے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اس صفت کا کامل ترین نمونہ ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے کہ جب دلیل سے ان کے اوپر حق واضح ہو گیا تو انھوں نے اپنی پوری زندگی اس کے لیے وقف کر دی ۔ ان کی راہ میں دشواریاں آئیں ۔ طرح طرح کے اونچ نیچ ان کے لیے رکاوٹ بنے۔ مگر وہ متزلزل نہیں ہوئے۔ یہاں تک کہ اسی راہ میں اپنی جان دیدی۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues