اردو نسل
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۱۳
اردو نسل
ٹائمس آف انڈیا (۲۶ مارچ ۱۹۸۹) میں ایک با تصویر خبر چھپی ہے۔ یہ مسٹر موہن سروپ ملک کے بارے میں ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ وہ ٹائمس آف انڈیا کے ایک اسٹاف رپورٹر تھے۔ ۲۵ مارچ ۱۹۸۹ کو ان کا انتقال ہو گیا ۔ انھوں نے سینٹ اسٹیفنس کالج سے انگلش میں بی اے کیا۔ بمبئی سے انھوں نے جرنلزم کا ڈپلوما حاصل کیا۔ وہ انگلش ، پنجابی، ہندی، اردو اور جرمن بخوبی طور پر جانتے تھے :
He graduated in English from St. Stephen's College, Delhi, and also obtained a diploma in journalism from the Bombay College of Journalism. He was well-versed in English, Punjabi, Hindi, Urdu and German. موہن سروپ ملک کی اس نسل کے ایک فرد تھے جو ۱۹۱۹۴۷ سے پہلے کے ہندوستان میں تیار ہوئی ۔ اس زمانہ کے تعلیم یافتہ لوگ عام طور پر اردو زبان جانتے تھے ۔ ۴۷ کے بعد یہی لوگ ہندوستان کے مختلف شعبوں کے انچارج بنے ۔ مزید یہ کہ تقسیم کے نتیجہ میں جو لوگ پاکستان کو چھوڑ کر ہندوستان آئے وہ بھی سب کے سب اردو داں تھے ۔
یہی " اردو داں" لوگ تھے جو آزاد ہندوستان کے مختلف شعبوں کے انچارج بنے ۔ ڈاکٹر راجندر پرشاد سے لے کر ایک اخباری رپورٹر اور پٹواری تک بیشتر لوگ وہی تھے جو بخوبی طور پر اردو جانتے تھے ۔ تقسیم کے بعد کے ہندوستان میں یہ مسلمانوں کے لیے ایک عظیم الشان سرمایہ تھا ۔ مگر وہ اس سرمایہ کو ایک فیصد بھی استعمال نہ کر سکے ، یہاں تک کہ ملک میں وہ دوسری نسل اوپر آگئی جو اردو سے نابلد تھی ۔
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی سب سے بڑی کمی یہ ہے کہ انھیں امکانات نظر نہیں آتے ۔ وہ کھوئی ہوئی چیز کی بابت تو خوب جانتے ہیں ، مگر جو چیز کھوئی نہیں گئی ہے، جو اب بھی امکانی طور پر انھیں حاصل ہے ، اس سے بالکل بے خبر رہتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی بربادی کی کم از کم ایک وجہ یقیناً یہی ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues