Al-Risala · December 1989 · page 14

نیا روس

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۱۴

نیا روس

اے پی کی ایک خبرٹائمس آف انڈیا (۱۶ مارچ ۱۹۸۹ء، سکشن ۲) کے صفحہ اول پر چھپی ہے۔ اس کے مطابق تاشقند (سوویت روس) میں خلافِ معمول مسلمانوں کا ایک جلوس نکلا۔ آنسوؤں اور اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ کئی ہزار مسلمانوں نے ۱۴ مارچ ۱۹۸۹ء کے ساتویں صدی عیسوی کے قرآنی نسخہ کی واپسی پر خوشی منائی اور اس کا خیر مقدم کیا۔ سرکاری طور پر ملحد روس میں اس قسم کا مذہبی جوش شاید ہی کبھی دیکھا گیا ہو۔ یہ قرآنی نسخہ وہ ہے جس کو حضرت عثمان نے تیار کرایا تھا۔ کئی سو سال پہلے یہ نسخہ روس کے شہنشاہ زار کو ملا۔ وہ ان کی راجدھانی سینٹ پیٹرز برگ میں محفوظ رہا۔ ۱۹۱۷ء کے بالشویک انقلاب کے بعد وہ تاشقند کے سرکاری میوزیم میں منتقل کر دیا گیا۔ قرآن کا یہ نسخہ اب تک الماریوں میں بند تھا۔ اب اس کو عوامی زیارت کے لیے کھول دیا گیا ہے (صفحہ ۱۱)

یہ ِواقعہہہ علامتی طور پر بتاتا ہے کہ نئے روسی حکمراں گوربا چوف کے بعد کس طرح اشتراکی روس میں مذہبی امور کے لیے نئے آزاد مواقع کھل گئے ہیں۔ روس میں اشتراکی انقلاب (۱۹۱۷ء) کے بعد سے پورے ستر سال تک وہاں مذہبی آزادی کا خاتمہ کر دیا گیا تھا۔ مگر اوپر کی پابندیوں کے نیچے لوگوں کے دلوں میں اور ان کے گھروں میں مذہب بدستور زندہ رہا۔ یہاں تک کہ خود روس کے اشتراکی حکمرانوں کو یہ اعتراف کرنا پڑا کہ مذہب سے لڑنا حقیقت واقع سے لڑنا ہے۔ اس طرح کی لڑائی میں حقیقت واقع تو نہیں بدلتی البتہ لڑنے والے کے حصہ میں بے فائدہ ناکامی کے سوا اور کچھ نہیں آتا۔ چنانچہ انھوں نے مذہب کے معاملہ میں اپنی پالیسی بدل دی۔

تاہم روسی مسلمان ان نئے مواقع سے صرف اس وقت فائدہ اٹھا سکتے ہیں جب کہ وہ حکمت اور تدبر کے ساتھ اس کو استعمال کریں۔ اگر انھوں نے غیر حکیمانہ اور غیر دانشمندانہ انداز اختیار کیا تو مواقع بدستور موجود ہوں گے مگر مسلمان اس کا فائدہ نہ اٹھا سکیں گے۔

ہر آزادی محدود آزادی ہے۔ خواہ اشتراکی ملک ہو یا جمہوری ملک، خواہ مسلم ملک ہو یا غیر مسلم ملک، ہر نظام اپنے شہریوں کو محدود آزادی ہی دیتا ہے۔ جو لوگ اس راز کو جانیں، وہ ہر جگہ کامیاب رہیں گے اور جو لوگ اس راز کو نہ جانیں وہ ہر جگہ ناکام۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues

Printed page