جھوٹی توجیہہ
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۱۶
جھوٹی توجیہہ
کمیونسٹ ملکوں میں اس وقت جو سماج بنا ہے، اس میں کچھ لوگ خوش حال ہیں اور کچھ لوگ بد حال ۔ کچھ لوگوں کی آمدنی بہت زیادہ ہے اور کچھ لوگوں کی آمدنی بہت کم ۔ یہ عین وہی صورت حال ہے جو بدنام سرمایہ دار ملکوں میں پائی جاتی ہے ۔ چنانچہ کمیونسٹ ملکوں میں ایسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے اس صورت حال پر تنقید کی اور کہا کہ ساری قربانیوں کے بعد ہم نے جو کچھ پایا وہ کمتر شکل میں عین وہی ہے جو سرمایہ دار ملکوں میں پہلے سے موجود ہے ۔
اس کے جواب میں کمیونسٹ چین میں ایک نیا نعرہ اختیار کیا گیا ہے ۔ اس چینی نعرہ کا ترجمہ یہ ہے کہ عوامی خوش حالی کا مطلب یہ نہیں کہ سب لوگ ایک ہی وقت میں یکساں طور پر خوش حال ہوں: Common prosperity does not mean simultaneous prosperity. انسان اپنی غلطی کی توجیہہ کرنے میں کتنا زیادہ ذہین ہے، مگر اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کے لیے وہ کتنا زیادہ بیوقوف بن جاتا ہے۔ ایک معاملہ میں وہ حد درجہ ذہین ہے، اور دوسرے معاملہ میں حد درجہ بیوقوف ۔
یہی موجودہ دنیا کے بیشتر انسانوں کا حال ہے۔ وہ ایک اقدام کرتے ہیں۔ بعد کے تجربات بتاتے ہیں کہ ان کا اقدام غلط تھا۔ مگر وہ سیدھی طرح اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کرتے۔ اس کے بجائے وہ اپنے اقدام کو درست ظاہر کرنے کے لیے ایک جھوٹی توجیہہ تلاش کر لیتے ہیں۔ بظاہر وہ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے اپنے کو صحیح ثابت کر لیا۔ حالاں کہ ایسی ہر توجیہہ صرف آدمی کی غلط کاری میں اضافہ کرتی ہے۔ وہ اس کو غلط کار سے آگے بڑھا کر سرکش اور ظالم کے مقام پر پہنچادیتی ہے۔
غلطی کو چھپانا، ایک غلطی کے بعد دوسری غلطی کرنا ہے۔ ایسے آدمی سے پوچھا جائے گا کہ جب تم نے اپنی غلطی پر پردہ ڈالنے کے لیے الفاظ پالئے تو اپنی غلطی کے اعتراف کے لیے تم نے الفاظ کیوں نہیں پائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues