حل کی طرف
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۱۷
حل کی طرف
ہندوستان کے سابق وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو پر ایک کتاب لندن سے شائع ہوئی ہے۔ اس کو مسٹر ایم جے اکبر نے مرتب کیا ہے اور وہ 400 صفحات پر مشتمل ہے :
M.J. Akbar, Nehru: The Making of India, 1988
اس کتاب میں نہرو کی زندگی سے متعلق کافی معلومات درج ہیں۔ اس کے باب 7 میں مولف نے لکھا ہے کہ ۱۹۵۷ کے الیکشن کے بعد جب کیرالا میں کمیونسٹ پارٹی نے وزارت بنائی تو نئی دہلی کی ایک مجلس میں اس کا ذکر آیا۔ ایک ہال میں حکومت کے بڑے بڑے افسروں کے ساتھ نہرو بحیثیت وزیر اعظم شریک تھے۔ گفتگو کے دوران مسٹر وائی ڈی گنڈ یویا نے کہا کہ جناب، کیرالا میں کمیونسٹوں نے اپنی حکومت بنالی ہے۔ اگر وہ کل کے الیکشن میں دوبارہ جیت جائیں اور دہلی کی حکومت پر قبضہ کرلیں تو اس کے بعد مرکز کا کیا حال ہوگا۔
نہرو نے جواب دینے سے پہلے تھوڑی دیر سوچا اور پھر بولے "کمیونسٹ، کمیونسٹ، کمیونسٹ، آخر آپ لوگ کمیونسٹوں سے اور کمیونزم سے اس قدر گھبراتے کیوں ہیں۔ آپ کیوں ایسا سوچتے ہیں کہ کمیونسٹ مرکز میں اقتدار حاصل کر لیں گے! " اس کے بعد نہرو دوبارہ چپ ہوگئے۔ پھر رک رک کر اور اعتماد کے لہجہ میں ان کی زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ "ہندوستان کے لیے خطرہ، اچھی طرح جان لیجیے، کمیونزم نہیں، یہ دائیں بازو کی ہندو فرقہ پرستی ہے : The danger to India, mark you, is not Communism.. It is Hindu right-wing communalism (p. 580). مسٹر گنڈ یویا جنھوں نے اپنی کتاب Outside the Archives میں یہ واقعہ لکھا ہے، ان کا کہنا ہے کہ نہرو نے اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے اپنے مذکورہ جملہ کو کئی بار دہرایا۔ جواہر لال نہرو کو مہاتما گاندھی نے اپنا سیاسی جانشین (Political successor) کہا تھا۔ چنانچہ آزادی کے بعد وہ ہندوستان کے وزیر اعظم بن گئے۔ تاہم جواہر لال اپنے مزاج کے اعتبار سے ایک نرم آدمی تھے۔ دوسری طرف کیبنٹ میں ان کے رفیق سردار پٹیل ایک آہنی انسان کہے جاتے
‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues