Al-Risala · December 1989 · page 19

پرتی کریا میں جنا حب گرن پیچھے دھکیلتا ہے

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۱۹

ہیں۔ اخبارات ور سائل کا مطالعہ کرنے والوں کے سامنے برابر اس کی مثالیں آتی رہتی ہیں۔ یہاں ہم صرف ایک مثال کا ذکر کرتے ہیں۔

مشہور ہندی ہفت روزہ پانچ جنیہ (۶ نومبر ۱۹۸۸) میں مسٹر اٹل بہاری باجپئی کا انٹرویو شائع ہوا ہے جو ہر محبت وطن کے لیے پڑھنے کے قابل ہے۔ اس کا عنوان اس پورے انٹرویو کا خلاصہ ہے :

پرتی کریا میں جنا حب گرن پیچھے دھکیلتا ہے

یعنی رد عمل کے ذریعہ جو بیداری آئے، وہ قوم وملک کو آگے نہیں بڑھاتی، بلکہ پیچھے کی طرف لے جاتی ہے۔ جس طرح مسلمانوں میں بہت سے لوگ مسلمانوں کی رد عمل کی تحریکوں کو صحوہ اسلامیہ کا نام دیتے ہیں۔ اسی طرح ہندوؤں میں بہت سے خوش فہم لوگ ہیں جو ہندوؤں کے درمیان مسلم رد عمل کے تحت اٹھنے والی لہر کو 'ہندو بیداری کا نام دے رہے ہیں ۔ مسٹر باجپئی نے ایسے ہندوؤں کو آگاہی دی ہے کہ یہ ایک منفی بیداری ہے ، اور منفی بیداری ہمیشہ تباہی کا باعث ہوتی ہے ، وہ تعمیر کا سبب نہیں بنتی۔

کوئی شخص خواہ کتنے ہی بڑے سیاسی عہدہ پر ہو ، اس کو بھی بے قید اختیار حاصل نہیں ہوتا۔ جنرل محمد ضیاء الحق ساڑھے گیارہ سال (۱۹۸۸ - ۱۹۷۷) تک پاکستان کے مطلق حکمران رہے۔ مگر پاکستان کی جو طاقتیں ملک کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں، ان میں سے کسی ایک پر کبھی وہ ہاتھ نہ ڈال سکے ۔ مثلاً بڑے بڑے جاگیر دار، اسمگلر، منشیات اور ہتھیاروں کا کاروبار کرنے والے ، بیورو کریسی، رشوت لینے اور دینے والے ، ٹیکس کی چوری کرنے والے ، علیحدگی پسند سیاست داں ، وغیرہ میں اس کو ناممکن سمجھتا ہوں کہ کوئی وزیر یا حکمراں ہندوستان کے اس مسئلہ کو حل کر سکتا ہے جس کو نہرو نے " ہندو فرقہ پرستی " کہا ہے۔ ہندو فرقہ پرستی تمام تر مسلم فرقہ پرستی کا رد عمل ہے، اور یہ صرف مسلمان ہیں جو قرآن کے اصول کے مطابق ، صبر اور اعراض کی پالیسی اختیار کرکے اس کو ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتے ہیں ۔

ہندوستان کے مسلمان اس " ہندو فرقہ پرستی " کے جواب میں آج بھی ٹھیک وہی طریقہ

‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues

Printed page