Al-Risala · December 1989 · page 18

M.J. Akbar, Nehru: The Making of India, 1988

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۱۸

تھے ۔ سردار پٹیل مزاجاً سخت متعصب تھے ، اسی کے ساتھ مرکزی حکومت میں امورِ داخلہ کا شعبہ ان کے پاس تھا۔

آزادی (۱۹۴۷) کے فوراً پہلے اور اس کے بعد ملک میں جو فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوئے ۔ ان کو دبانے کی اصل ذمہ داری سردار پٹیل کی تھی ۔ مگر انھوں نے اس معاملہ میں ڈھیل دینے کی پالیسی اختیار کی۔ جواہر لال نہرو کو اس مسئلہ پر سردار پٹیل سے سخت اختلاف تھا۔ بدرالدین طیب جی نے اپنی خود نوشت سوانح عمری میں لکھا ہے کہ اگر نہرو نے اس معاملہ میں اس وقت مضبوط موقف اختیار کیا ہوتا ، وہ سردار پٹیل کی مخالفت کرتے جب کہ ابھی مہاتما گاندھی زندہ تھے تو ہندوستان کی سیاست کا رخ بالکل دوسرا ہوتا :

If he had taken a stand then, opposing Sardar Patel while Gandhi was still alive, Indian politics would have taken quite a different turn. Badruddin Tayabji, Memoirs of an Egoist, vol. I, p. 186. میرے نزدیک یہ بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ نہرو ایک طرف آزاد ہندوستان کے مسائل رکھتے تھے جن سے نمٹنے کے لیے انھیں ایک سخت ہاتھ کی ضرورت تھی۔ مثال کے طور پر ۵۰۰ دیسی ریاستوں کا مسئلہ ، اس کو سردار پٹیل کے سخت ہاتھ نے جس طرح حل کیا ، غالباً نہرو کے لیے اس طرح اس کا حل کرنا ممکن نہ ہوتا۔ دوسری بات یہ کہ پٹیل کسی ایک شخص کا نام نہ تھا، وہ دراصل ہندو فرقہ پرستی کے پورے گروپ کی علامت تھا۔ یہ گروپ اتنا طاقتور تھا کہ اس نے اسی سوال پر خود گاندھی کو قتل کر دیا ۔ پھر نہرو کے لیے کیوں کر ممکن تھا کہ وہ اس پر قابو پالیتے۔ کسی دوسرے کی کمزوری سے زیادہ یہ خود ہندو فرقہ پرستی کی طاقت تھی جس نے نہرو کو دبالیا۔ اسی نے مہاتما گاندھی کو گولی کا نشانہ بنایا۔ راج گوپال اچاری کو سیاست سے بے دخل کر دیا اور اکٹھے برہم چاری جیسے کتنے منصف مزاج ہندوؤں کو عاجز کر کے چھوڑ دیا۔ وغیرہ نہرو نے جس خطرہ کی نشاندہی کی تھی ، وہ آج ایک واقعہ بن چکا ہے ۔ آج ہندو فرقہ پرستی اپنی پوری طاقت کے ساتھ جاگ اٹھی ہے اور اپنے بھیانک نتائج دکھارہی ہے۔ آج بھی ہندوؤں میں ایسے ہوش مند اور انصاف پسند لوگ موجود ہیں جو اس کے خلاف آواز اٹھا رہے

‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues

Printed page