مفاد کی سیاست
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۲۳
مفاد کی سیاست
سابق شاہ ایران محمد رضا پہلوی (۱۹۱۹۔ ۱۹۸۰) کے آخری دنوں کے حالات پر ایک معلوماتی کتاب شائع ہوئی ہے۔ اس کا نام یہ ہے :
William Shawcross, The Shah's Last Ride, Chatto & Windus, London. ایران کے سیاسی حالات جب شاہ کے لیے بہت زیادہ غیر موافق ہو گئے تو ۱۶ جنوری ۱۹۷۹ کو وہ اپنے مخصوص ہوائی جہاز کے ذریعہ امریکہ روانہ ہو گئے۔ اس کے بعد وہ مختلف ملکوں میں قیام کی کوشش کرتے رہے ۔ مراکو، بہاماس، پناما، وغیرہ مگر کسی ملک نے ان کو قبول نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ شاہ کے نکلنے کے بعد ایران کے انقلابیوں (صحیح تر لفظ میں تخریب کاروں) نے امریکی سفارت خانہ پر قبضہ کر کے پچاس سے زیادہ امریکیوں کو یرغمال (Hostage) بنا لیا تھا۔ اس انجام سے بچنے کے لیے کوئی ملک ان کو پناہ دینے کے لیے تیار نہ تھا۔ اسی جلاوطنی کی حالت میں قاہرہ میں ۲۷ جولائی ۱۹۸۰ کو ان کا انتقال ہو گیا۔
شاہ کے عروج کے زمانے میں برطانیہ ان کا بہت بڑا دوست سمجھا جاتا تھا۔ شاہ نے برطانیہ سے درخواست کی کہ وہ ان کو اپنے یہاں داخلہ کی اجازت دیدے۔ مگر برطانی حکومت نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ موجودہ وزیر اعظم برطانیہ مسز مارگریٹ تھیچر اس وقت اپوزیشن میں تھیں۔ اس وقت انھوں نے برطانی حکومت کے انکار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں برطانی باشندہ ہونے پر شرم ہوگی اگر برطانیہ اپنے دوستوں کا ساتھ نہ دے:
She would be ashamed to be British if the UK did not stand by its friends. اس کے جلد ہی بعد مئی ۱۹۷۹ میں برطانیہ میں الیکشن ہوا۔ اس الیکشن میں مسز مارگریٹ تھیچر کی پارٹی کامیاب ہوئی اور وہ برطانیہ کی وزیر اعظم بنا دی گئیں ۔ اس وقت شاہ اور ان کی ملکہ بہاماس میں تھے۔ انھوں نے مارگریٹ تھیچر کی جیت پر خوشی منائی۔ مگر ان کی امیدوں کے خلاف
‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues