مفاد کی سیاست
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۲۴
مارگریٹ تھیچر نے دوبارہ انھیں برطانیہ میں داخلے کی اجازت نہ دی۔ مصنف کے نزدیک اس کی دو وجہ تھی ۔ تہران میں برطانوی سفارت خانہ کو یرغمال بننے سے بچانا اور ایران کے ساتھ برطانیہ کے تجارتی مفادات کا تحفظ :
مارگریٹ تھیچر جب وزیر اعظم نہیں تھیں، اس وقت انھوں نے کہا کہ شاہ ایران کو پناہ نہ دینا برطانیہ کے لیے ایک شرم کی بات ہے۔ مگر یہی مارگریٹ تھیچر جب خود برطانیہ کی حکمراں بن گئیں تو انھوں نے بھی یہی کیا کہ شاہ ایران کو برطانیہ میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
بظاہر دونوں باتیں ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ مگر باعتبارِ حقیقت دونوں ایک ہیں۔ دونوں ہی کا اصل محرک ذاتی مفاد ہے۔ مارگریٹ تھیچر جب اپوزیشن میں تھیں تو ان کا مفاد اس میں تھا کہ وہ حکمراں پارٹی کو مطعون کرنے کے لیے شاہ کی حمایت کریں ۔ اس کے بعد جب مارگریٹ تھیچر خود حکمراں بن گئی تو ان کا مفاد یہ بن گیا کہ وہ بھی وہی کریں جو ان سے پہلے کی حکمراں جماعت کر رہی تھی۔
بے اصول سیاست کی یہ قسم صرف ”کفر پسندوں“ کی اجارہ داری نہیں، وہ یکساں درجہ میں "اسلام پسندوں" کے یہاں بھی پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ۱۹۶۵ میں پاکستان میں صدر کے عہدہ کے لیے الیکشن تھا۔ اس موقع پر وہاں کے اسلام پسندوں نے محمد ایوب خاں کے مقابلہ میں مس فاطمہ جناح کو کھڑا کیا۔ اس وقت انھوں نے زور و شور کے ساتھ دعویٰ کیا کہ اسلام میں عورت کی حکمرانی جائز ہے۔ مگر دسمبر ۱۹۸۸ کے الیکشن کے بعد جب بے نظیر بھٹو پاکستان کی وزیر اعظم بن گئیں تو اب یہی اسلام پسند اپنی ساری طاقت یہ ثابت کرنے میں لگائے ہوئے ہیں کہ اسلام میں عورت کو حکمراں بنانا جائز نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کا سب سے بڑا مذہب مفاد پرستی ہے، غیرمسلموں کا بھی اور ان لوگوں کا بھی جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues