آخر سے آغاز
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۲۵
آخر سے آغاز
ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں الالرسالہ پابندی کے ساتھ پڑھتا ہوں۔ مگر فسادات کے معاملہ میں آپ کے نظریہ سے مجھے اتفاق نہیں۔ میں نے پوچھا کیوں۔ انھوں نے پر جوش طور پر کہا کہ آپ صبر و اعراض کو فساد کے مسئلہ کا حل بتاتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ صبر و اعراض کہاں تک۔ اگر فرقہ پرست لوگ ہمارے گھروں میں گھس آئیں اور ہماری ماں بہن کو بے عزت کرنے لگیں تو کیا اس وقت بھی ہم صبر و اعراض کی پالیسی پر عمل کرتے رہیں گے۔ میں نے کہا کہ آپ کی مشکل یہ ہے کہ آپ کہانی کو آخر سے شروع کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسالہ کی بات آپ کی سمجھ میں نہیں آتی۔ فرقہ پرستوں کا گھر کے اندر گھس جانا یہ کہانی کا آخری حصہ ہے۔ یہی وہ چیز نہیں جہاں سے کہانی شروع ہوتی ہو۔
پھر میں نے کہا کہ ہندوستان کا کوئی فرقہ وارانہ فساد ایسا نہیں ہے جو یہاں سے شروع ہوا ہو کہ اچانک فرقہ پرست لوگ مسلمانوں کے گھروں میں گھس کر غنڈہ گردی کرنے لگے ہوں۔ اگر آپ ایسے کسی فساد کا نام بتائیں تو میں سفر کر کے وہاں جاؤں گا اور اس کی تحقیق کروں گا۔ مگر وہ ایسے کسی فساد کا نام و پتہ نہ بتا سکے ۔
اصل یہ ہے کہ فرقہ وارانہ فساد ہمیشہ "سڑک" سے شروع ہوتا ہے نہ کہ "گھر" سے۔ مثلاً ہندوؤں کا ایک جلوس نکلتا ہے۔ وہ باجا بجاتا ہوا مسجد کے سامنے سے گزرتا ہے۔ مسلمان انتہائی ناقابل فہم طور پر اس کو اپنے لیے قومی وقار کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں روک ٹوک شروع کر دیتے ہیں۔ یہاں سے بات بڑھتی ہے جو بالآخر فساد تک پہنچتی ہے۔ اگر مسلمان ابتدائی مرحلہ میں صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کر لیں تو "سڑک" کا واقعہ سڑک تک رہ جائے ، وہ "گھر" کے اندر تک نہ پہنچے۔
اس قسم کے تمام جھگڑے صرف نادانی ہیں ، ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ فرقہ وارانہ فسادات دراصل مسلمانوں کی نادانی کی قیمت ہیں۔ نادانی نے انھیں پیدا کیا ہے، اور نادانی کو ختم کر کے ہی ان کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ دوسری ہر تدبیر صرف فساد کو بڑھانے والی ہے نہ کہ فساد کو گھٹانے والی۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues