Al-Risala · January 1989 · page 4

بیعت الرضوان

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۹، صفحہ ۴

بیعت الرضوان

بیعت الرضوان (۶ ھ) اسلامی تاریخ کا مشہور واقعہ ہے جو حدیبیہ کے ضمن میں پیش آیا۔ یہ سفر اصلاً عمرہ کرنے کے لیے ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو قریش نے آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے روکا۔ اس وقت قریش سے آپ کی صلح کی بات چیت شروع ہوئی۔ اس دوران آپ نے حضرت عثمان بن عفانؓ کو اپنا سفیر بنا کر قریش کے پاس بھیجا تاکہ وہ اہل مکہ کو بتائیں کہ آپ مکہ میں صرف عبادت کے لیے داخل ہونا چاہتے ہیں نہ کہ جنگ اور ٹکراؤ کے لیے۔

قریش اس بات پر راضی نہیں ہوئے۔ انھوں نے حضرت عثمان کو اپنے یہاں روک لیا۔ جب آپ کی واپسی میں تاخیر ہوئی تو مشہور ہو گیا کہ قریش نے حضرت عثمان کو قتل کر دیا ہے۔ یہ خبر بے حد غیر معمولی تھی۔ چنانچہ اس کو سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چودہ سو اصحاب کو جمع کیا اور ان سے بیعت لی۔ اسی بیعت کا نام بیعت الرضوان ہے۔

یہ بیعت کس بات پر تھی۔ روایات میں آتا ہے کہ کچھ لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت پر بیعت لی ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ، جو خود اس بیعت میں شریک تھے، انھوں نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے موت پر بیعت نہیں لی۔ بلکہ اس بات پر بیعت لی کہ ہم بھاگیں گے نہیں (ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لم يبايعنا على الموت ولكن بایعنا على أن لا نفر) چنانچہ ابن قیم نے اس کے تذکرہ میں یہ الفاظ لکھے ہیں: فبايعوه على أن لا يفروا حدیبیہ کے سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کامل امن پسندی کا مظاہرہ کیا۔ فریقِ ثانی کی اشتعال انگیزی کے باوجود آپ مشتعل نہیں ہوئے۔ ٹکراؤ کے ہر موقع سے یک طرفہ طور پر اعراض کرتے رہے۔ اپنی جماعت کے سب سے زیادہ نرم مزاج آدمی کو اس سفارت کے ساتھ بھیج کہ ہم صلح کرنے کے لیے تیار ہیں۔ پھر جب قتل کی خبر ملی اس وقت بھی آپ نے ایسا نہیں کیا کہ خبر ملتے ہی قریش کے اوپر ٹوٹ پڑیں۔ بلکہ اپنے مقام پر ٹھہر کر لوگوں سے صرف اس بات کی بیعت لی

‹ Previous page Next page › Contents of January 1989 All issues

Printed page