Al-Risala · January 1989 · page 5

بیعت الرضوان

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۹، صفحہ ۵

کہ ہم یہیں جمے رہیں گے۔ قریش اگر خود سے لڑنے کے لیے آتے ہیں تو مقابلہ کریں گے۔ اور اگر وہ صلح پر راضی ہوتے ہیں تو صلح کر لیں گے، خواہ یہ صلح یک طرفہ شرطوں پر کیوں نہ ہو، جیسا کہ آپ نے عملاً کیا۔ بیعت الرضوان کے باوجود صلح کر لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بیعت اصلاً جنگ کے لیے نہ تھی۔ اگر وہ جنگ کے لیے ہوتی تو ناممکن تھا کہ اس کے بعد آپ اپنے دشمن سے یک طرفہ شرطوں پر صلح کر لیں۔

حضرت عثمان بن عفان جب مکہ گئے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کی حیثیت سے وہاں گیے تھے۔ بین اقوامی رواج کے مطابق، سفیر کا قتل اعلان جنگ کے ہم معنی ہوتا ہے۔ جب یہ خبر ملی کہ قریش نے آپ کے سفیر کو قتل کر دیا ہے تو قدرتی طور پر آپ نے اس کا مطلب یہ سمجھا کہ قریش اب آخری طور پر آمادہ جنگ ہو چکے ہیں، وہ کسی حال میں صلح اور امن کا معاملہ کرنے پر راضی نہیں ہیں۔ اس خبر نے وقتی طور پر صورت حال کو یکسر بدل دیا۔

ابتدائی صورت حال کے مطابق، آپ کے سامنے صلح یا جنگ میں انتخاب (Choice) کا مسئلہ تھا۔ اس وقت آپ نے جنگ کو چھوڑ کر صلح کا انتخاب فرمایا تھا۔ مگر قتل سفیر کی خبر نے ظاہر کیا کہ اب فرار یا جنگ میں سے کسی ایک صورت کے انتخاب (Choice) کا مسئلہ درپیش ہے۔ یعنی قریش کسی حال میں بھی صلح پر راضی نہیں ہیں۔ وہ ہر حال میں جنگ کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت آپ نے اپنے اصحاب سے عدم فرار، اور بصورت جارحیت دفاع کی بیعت کی۔ مگر جب معلوم ہوا کہ یہ خبر غلط تھی تو پھر دوبارہ آپ جنگ کو چھوڑ کر صلح پر راضی ہوگئے، حالاں کہ یہ صلح آپ کو دشمن کی یک طرفہ شرطوں پر کرنی پڑی۔

بیعت الرضوان کا پیغام یہ ہے کہ تمہارے لیے اگر انتخاب (Choice) فرار اور جنگ کے درمیان ہو تو فرار کو چھوڑ کر جنگ کا طریقہ اختیار کرو۔ اور اگر تمہارے لیے انتخاب (Choice) صلح اور جنگ کے درمیان ہو تو جنگ کو چھوڑ کر صلح کا طریقہ اختیار کرو، خواہ یہ صلح فریقین ثانی کی یک طرفہ شرائط پر ہی کیوں نہ ہو۔ مزید یہ کہ فرار کے مقابلہ میں عدم فرار کو اختیار کرنے کا حکم بھی مشروط حکم ہے نہ کہ مطلق حکم۔ کیوں کہ حدیبیہ (۶ھ) میں آپ نے فرار کے مقابلہ میں عدم فرار کا فیصلہ فرمایا۔ مگر اس سے پہلے مکہ (۱ھ) میں اسی طرح کی صورت حال میں آپ نے وہاں سے ہجرت فرمائی۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1989 All issues

Printed page