Al-Risala · December 1989 · page 27

ایک موت

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۲۷

عمارت کا تالا کھلوایا تھا۔ صرف اس لیے کہ اس طرح وہ ہندوؤں کو خوش کر سکیں گے۔ مسلمانوں کے مسئلہ کو، خاص طور پر میرٹھ کے فسادات کو برے طریقے سے انجام دینے کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ عوام کے اندر مقبولیت حاصل نہ کر سکے (صفحه ۱۳)

مسٹر بادولا کے یہ الفاظ پڑھ کر میں نے سوچا کہ ویر بہادر سنگھ کے بارہ میں اتنا کھلا ہوا تبصرہ شاید کوئی مسلم دانشور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ بلاشبہ یہ انتہائی منصفانہ اور جرات مندانہ تبصرہ ہے اور مسٹر بادولا اس کے مستحق ہیں کہ ملک کے نمبر ایک انگریزی اخبار میں ایسا تبصرہ شائع کرنے پر انہیں مبارکباد دی جائے۔

مگر افسوس ناک بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں آجکل جو لکھنے اور بولنے والے ہیں، وہ اس ملک کے بارہ میں تعصب اور ظلم کی داستانوں کے سوا اور کچھ نہیں جانتے۔ انھیں "ویر بہادر سنگھ" کی خبر ہے، مگر انھیں "وی ایم بادولا" کی کوئی خبر نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اعلان کیا ہے کہ اس دنیا میں ہمیشہ عُسر کے ساتھ یُسر بھی موجود رہتا ہے۔ مگر موجودہ مسلمان لیڈر "یسر بلائنڈ" ہو چکے ہیں۔ ان کو یہاں صرف عُسر دکھائی دیتا ہے، یُسر کے مناظر ان کی آنکھوں کے سامنے ہوئے ہیں مگر وہ انھیں نظر نہیں آتے۔

دوسری بات ویر بہادر سنگھ سے متعلق ہے۔ انھوں نے اپنی وفات سے صرف چند ماہ پہلے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ میں آج میں جیتا ہوں، میں کل کی پروا نہیں کرتا۔ انھوں نے "میرٹھ" اور "بابری مسجد" کے معاملہ میں جو کچھ کیا، اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ صرف اپنے آج کو دیکھتے تھے، وہ کل کی فکر نہیں کرتے تھے۔ حالاں کہ اصل حقیقت یہ تھی کہ ان کا آج چند دن بعد "۳۰ مئی" کو ختم ہو جانے والا تھا۔ اس کے بعد جو کل ان کے لیے مقدر تھا، وہ یہ کہ وہ ایک عام انسان کی حیثیت سے خدا کی عدالت میں جواب دہی کے لیے حاضر کر دیے جائیں۔ ویر بہادر سنگھ اگر اس حقیقت کو جانتے تو وہ آج سے زیادہ کل کے لیے فکر مند ہوتے ، اس کے بعد وہ اس سے بالکل مختلف انسان بن جاتے جیسا کہ وہ اپنی زندگی کے آخر تک بنے رہے۔ "آج" کو جاننا آدمی کو سرکش اور بے انصاف بناتا ہے، اور "کل" کو جاننا ذمہ دار اور انصاف پسند۔ لوگ صرف اپنے آج کو جانتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ سرکش اور بے انصاف بنے ہوتے ہیں۔ اگر وہ اپنے کل کو جانیں تو ان کی زندگیاں بالکل بدل جائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues

Printed page