Al-Risala · December 1989 · page 31

تجارت کا میدان

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۱

مگر موجودہ زمانہ کے مسلمان پیغمبر کے اس کلام کو نظر انداز کر رہے ہیں ۔ تجارت کا میدان ان کے لیے پوری طرح کھلا ہوا ہے مگر وہ اس میں محنت نہیں کرتے ۔ اس کے برعکس وہ اس ذریعہ معاش کی طرف اپنی نظریں لگائے ہوئے ہیں جو پیغمبر کے ارشاد کے مطابق ، معاشی ذرائع کے صرف دس فی صد حصہ پر مشتمل ہیں ۔ وہ اس ذریعہ معاش کو عملاً چھوڑے ہوئے ہیں جو ۹۰ فی صد معاشی ذرائع سے تعلق رکھتا ہے ۔

موجودہ مسلم رہنماؤں نے ایسے اخبار اور رسالے نکال رکھے ہیں جن کا کام یہ ہے کہ وہ ہر ہفتہ یا ہر مہینہ مسلمانوں کو اس بات کی خبر دیں کہ فلاں سروس میں ان کا تناسب اتنا کم ہے اور فلاں داخلہ میں وہ اتنی کم تعداد میں لیے گیے ہیں ۔ اس قسم کے پرچے نکالنے والے بیک وقت دو جرم کر رہے ہیں ۔ ایک طرف وہ پیغمبرِ اسلام کی ، نعوذ باللہ تحقیر کر رہے ہیں ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ارشاد سے مسلمانوں کو یہ رہنمائی دے رہے ہیں کہ اگر تمہارے لیے دس فی صد ذرائع والے میدان میں مواقع نہیں ہیں تو اس کی پروا نہ کرو ۔ تم اس میدان میں داخل ہو جاؤ جو ذرائع معاش کے ۹۰ فی صد حصہ سے تعلق رکھتا ہے ۔ اور جو آج بھی تمہارے لیے پوری طرح کھلا ہوا ہے ۔ مگر مسلمانوں کے جھوٹے لیڈر رسول کی آواز پر اپنی آواز بلند کر کے چیخ رہے ہیں کہ اصل معاشی میدان تو ملازمتوں کا میدان ہے اور وہاں مسلمانوں کے لیے دروازہ بند کر دیا گیا ہے ۔ قرآن کے مطابق ، جو شخص رسول کی آواز پر اپنی آواز بلند کرے اس کے اعمال حبط ہو جاتے ہیں (الحجرات: ۲) ، اس آیت کی روشنی میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے نام نہاد لیڈر حبطِ اعمال کے اس قانون کی زد میں آگئے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ۵۰ سالہ چیخ پکار مکمل طور پر بے فائدہ ثابت ہوئی ۔ وہ اپنے دعوی کے مطابق ، ملازمتوں کی فہرست میں ، مسلمانوں کا اضافہ کرنے میں کوئی کامیابی حاصل نہ کر سکے ۔

مسلمانوں نے اگر بالفرض اس ملک میں "۱۰ فی صد رزق والے میدان کو کھو دیا ہو تب بھی "۹۰ فی صد رزق والا میدان اب بھی ان کے لیے کھلا ہوا ہے ۔ ان کو چاہیے کہ وہ اس دوسرے وسیع تر میدان میں داخل ہو جائیں ۔ اس کے بعد انھیں اپنے ماحول کے خلاف تعصب اور امتیاز کی شکایت نہ ہوگی ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues

Printed page