Al-Risala · December 1989 · page 30

تجارت کا میدان

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۰

تجارت کا میدان

ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تسعۃ اعشار الرزق فی التجارة (کنز العمال)، یعنی روزی کے ۹۰ فی صد حصے تجارت میں ہیں۔

یہ حقیقت قدیم روایتی زمانہ میں ایک قسم کی پیشین گوئی کی حیثیت رکھتی تھی۔ کیوں کہ قدیم زمانہ میں اصل اہمیت زراعت کی تھی نہ کہ تجارت کی۔ مگر آج پیغمبر کا یہ کلام ایک ثابت شدہ حقیقت بن چکا ہے۔ موجودہ زمانہ میں نئے طریقوں کی دریافت نے تجارت کی وسعت بہت زیادہ بڑھادی ہے ۔ آج تجارت دوسرے ذرائع معاش پر بدرجہا زیادہ فائق ہو چکی ہے ۔ اس کی ایک مثال ہندوستان کے پارسی ہیں ۔ ہندوستان میں پارسیوں کی تعداد بمشکل ایک لاکھ ہے ۔ مگر تجارت کے میدان میں عمل کر کے انھوں نے ملک کی دولت کے ایک بہت بڑے حصہ پر قبضہ کر لیا ۔

موجودہ زمانہ میں تجارت کی فوقیت صرف ملازمت اور زراعت جیسے روایتی ذرائع ہی پر قائم نہیں ہوئی ہے، بلکہ اس نے سیاست اور فوج اور ہتھیار جیسی چیزوں پر بھی فیصلہ کن غلبہ حاصل کر لیا ہے ۔ اس کی ایک مثال جاپان ہے۔ جاپان نے اپنی تجارتی ترقی کے ذریعہ یہاں تک بالاتری حاصل کی کہ اس نے امریکہ کی فوجی اور سیاسی طاقت کو اپنے مقابلہ میں بے اثر بنا دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو دیکھئے اور اس کے بعد موجودہ مسلمانوں کی روش پر غور کیجئے ۔ ہندوستان کے مسلمان آج سب سے زیادہ جس بات کی شکایت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، وہ یہ ہے کہ ان کو سرکاری ملازمت میں نہیں لیا جاتا ۔ ملازمتوں اور داخلوں کے کوٹہ میں ان کے لیے رزرویشن نہیں ہے ۔

مسلمانوں کی یہ روش پیغمبر اسلام کے خلاف عدم اعتماد کے اظہار کے ہم معنی ہے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تو یہ فرما رہے ہیں کہ رزق کا ۹۰ فی صد حصہ تجارت میں ہے ۔ پیغمبر اسلام کی اسی تعلیم کا یہ نتیجہ تھا کہ صحابہ اور تابعین بہت بڑے پیمانہ پر تجارتوں میں داخل ہو گئے ۔ چنانچہ صحابہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خشکی اور تری میں تجارت کیا کرتے تھے (ان الصحابة كانوا تجرون في البر والبحر ) ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues

Printed page