Al-Risala · December 1989 · page 33

سفر نامہ راجستھان - ۴

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۳

سفر نامہ راجستھان - ۴

اب وہ نوجوان اوزار سازی کا ماہر ہو گیا ہے اور اس کے ذریعہ اچھی کمائی کر رہا ہے۔ بہت سے مسلمان اب کو اس قسم کی منت ماننے والے ملیں گے۔ آپ ان کو منع کریں تو وہ کہیں گے کہ " ہمارا مقصد پورا ہوتا ہے تو ہم کیوں نہ کریں "۔ مگر یہ صرف غلط فہمی ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسان کے دماغ میں بے پناہ صلاحیت بھری ہوئی ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اس صلاحیت کو حرکت میں لایا جائے۔ اس کو حرکت میں لانے والی چیز یقین ہے۔ نوجوان نے " اوزار " اپنی عقل سے بنایا۔ البتہ اس کی عقل کو متحرک کرنے کے لئے یقین اور حوصلہ کی طاقت درکار تھی۔ جب اس نے تعزیہ پر چاندی کا اوزار چڑھانے کا ارادہ کیا تو اس نے اپنے اندر ایک نئی طاقت پیدا کر لی۔ اس کی نفسیات یہ ہو گئی کہ اب میں نے تعزیہ کو چڑھا دادیینے کی منت مان لی ہے ، آپ تو میں اس کی مدد سے ضرور یہ کام کر لوں گا۔ اس طرح چڑھاوے کی منت سے اس کو یقین اور حوصلہ کی طاقت مل گئی۔ اس کے ذریعہ اس نے اوزار بنا لیا۔ اس یقین کا حقیقی سر چشمہ اللہ کا عقیدہ ہے۔ مگر نادان آدمی دوسری چیزوں پر عقیدہ کو اپنے یقین کا سر چشمہ بنا لیتا ہے۔ عبد القيوم صاحب (۳۸ سال)، پالی کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ پالی میں اتن تعصب ہے کہ اگر سڑک پر کوئی ایکسیڈنٹ ہو جائے تو لوگ سب سے پہلے یہ پوچھتے ہیں کہ ایکسیڈنٹ کرنے والا کون ہے۔ چوڑی بازار میں آگ لگ گئی تو پوچھنے والے صرف یہ پوچھتے تھے کہ آگ کس نے لگائی۔ لوگوں کو آگ بجھانے سے دل چسپی نہیں ، بلکہ یہ جاننے سے دل چسپی ہے کہ آگ لگانے والا کون ہے۔

حالت یہ ہے کہ پوچھنے والے کو اگر یہ بتایا جائے کہ آگ لگانے والا یا ایکسیڈنٹ کرنے والا مسلمان ہے تو ہند و طوفان کھڑا کر دیں گے ۔ اور اگر یہ بتایا جائے کہ آگ لگانے والا یا ایکسیڈنٹ کرنے والا ہندو ہے تو مسلمان پھر کر ہنگامہ کرنے لگیں گے۔

عبد القیوم صاحب پالی میں پینٹنگ کا کام کرتے ہیں۔ ان کا کام ۹۰ فی صد ہندوؤں میں ہوتا ہے۔ وہ سچائی کے ساتھ اور محنت کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ چنانچہ تمام ہندو ان کی عزت کرتے ہیں۔ ہندوؤں کو ان پر اتنا اعتماد ہو گیا ہے کہ گھر کی کنجی انھیں دے کر باہر چلے جاتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ۱۹۸۷ میں پالی میں فساد ہو گیا۔ بہت سی دکانیں جلا دی گئیں۔ شہر میں کرفیو

‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues

Printed page