سفر نامہ راجستھان - ۴
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۳۴
لگ گیا۔ اس وقت وہ ہندو محلے میں تھے ۔ ہندوؤں نے ان کی پوری حفاظت کی۔ کھانے پینے کی کوئی تکلیف نہیں ہونے دی۔ " اصل چیز اپنا اخلاق ہے"۔ عبد القیوم صاحب نے اپنے سادہ لفظوں میں کہا۔ " ہم اپنا اخلاق اور اپنی بول بات ٹھیک رکھیں تو وہ ہمارا پورا احترام کریں گے"۔ ایک بزرگ نے ایک صاحب کا ذکر کیا جنہوں نے ہمارے مشن کے ساتھ غضب اور خیانت کا معاملہ کیا ہے اور کچھ لوگ " بغض معاویہ " کی نفسیات کے تحت ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ تحسبونه هيناً وهو عند ٱللَّهِ عظیم کا معاملہ ہے۔ قیامت میں یہ لوگ اپنے جرم پر اتتار و بیٹھیں گے کہ ان کے آنسوؤں کا سیلاب ہی ان کو غرق کرنے کے لئے کافی ہو جائے گا۔
راجستھان کا ایک قصبہ مکرانہ ہے جو سنگ مرمر کے لئے مشہور ہے۔ مکرانہ جانے کا اتفاق تو نہیں ہوا۔ البتہ یہاں کے بعض اصحاب سے ملاقات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ پہلی بار ۱۶۰۶ میں یہاں سنگ مرمر کی موجودگی کا پتہ چلا۔ ہندوستان میں یہ اپنی نوعیت کا واحد مقام ہے۔ مسٹر جی ایل کٹا ریا اسسٹنٹ مائننگ انجینئر، مکرانہ) کے بیان کے مطابق ، یہاں تقریباً ۵۰ ملین ٹن سنگ مرمر کا ذخیرہ موجود ہے۔ یہ ذخائر ۵۰ فٹ نیچے شروع ہو جاتے ہیں اور ۲۵۰ فٹ تک جاتے ہیں۔ یہ ذخائر تقریباً ۲ کلو میٹر کے رقبہ میں زیر زمین پھیلے ہوئے ہیں۔ اس سے ریاست کے خزانہ کو سالانہ چار کروڑ رو رو پیہ بطور ٹیکس وصول ہوتا ہے۔ شاہجہاں نے مکرانہ کے پتھروں ہی سے آگرہ کا تاج محل بنوایا تھا۔ اسی وقت سے مکرانہ کو زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ اس وقت مکرانہ میں ۶۵۰ کانیں ہیں۔
پنجاب اور یوپی اگر درختوں کے باغ ہیں تو راجستھان طرح طرح کے پتھروں کا باغ ہے۔ خدا کے جو کلمات درخت کے نازک پتوں پر لکھے ہوئے نظر آتے ہیں ، وہی کلمات پتھروں کی دنیا میں سنگی تحریروں کی صورت میں لکھے ہوئے ہیں۔ میں نے مکرانہ کے ایک صاحب سے پوچھا کہ کیا مکرانہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں جنھوں نے پتھروں کے ورق پر لکھی ہوئی خدا کی کتاب پڑھی ہو۔ اس سوال کو سن کر وہ میری طرف اس طرح دیکھنے لگے جیسے میں نے روسی یا جاپانی زبان میں ان سے کوئی سوال کر دیا ہو۔ ۳۰ جولائی کو دوپہر بعد شیو گنج سے سرو ہی کے لئے روانہ ہوا۔ سرد ہی ایک پر سکون اور
‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues