Improving Indo-Bangladesh Relations
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۴۷
عظمتِ دل پر نقش جو گئی ہے۔ کاش ایسی عبقری شخصیت سے میں پہلے ہی استفادہ کر لیتا۔ (محمد افضل لادی والا ۔ بمبئی)
۱۱- مسٹر طارق (کراچی) نے بتایا کہ پاکستان میں الالالالالر سالہ بہت مقبول ہو رہا ہے۔ موجودہ حالات کی بناپر چونکہ وہاں زیادہ تعداد میں الرسالہ نہیں جاسکتا ہے، اس لیے لوگ ایسا کر رہے ہیں کہ زیرکس کے ذریعہ ایک شمارہ کی کئی کئی کاپیاں نکالتے ہیں اور اس طرح اس کو حاصل کر کے پڑھتے ہیں۔ پھر ایک کاپی کو بھی بے شمار لوگ مہینوں تک پڑھتے رہتے ہیں۔
۱۲ پاکستان سے ایک صاحب لکھتے ہیں: کافی پہلے ایک دوست کے توسط سے رسالہ سے واقف ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رسالہ اجتماعیت کا نہیں بلکہ انفرادیت کا قائل ہے۔ میں نے پہلی مرتبہ رسالہ پڑھا تو میرا پہلا تاثر یہ تھا کہ یہ رسالہ ہندوستان کے مسلمانوں کو بزدلی کا درس دیتا ہے اور اسے حکومت کے ایماء پر اس لیے شائع کیا جاتا ہے کہ یہ مسلمانوں کو ہندوؤں کی غلامی پر ذہنی طور پر آمادہ کرے۔ اس پہلے تاثر کے بعد میں نے رسالہ کو دوبارہ نہیں پڑھا۔ ایک دن کتابوں کی ایک دکان پر رسالہ پر نظر پڑی۔ اس کے بعض جملے دل کو لگے۔ لہذا خرید لیا اور گھر آکر ایک ہی نشست میں اس کو پڑھ ڈالا۔ میرا سابقہ تاثر فوری طور پر زائل ہو گیا۔ اب یہ کیفیت ہے کہ جب تک الرسالہ کا مطالعہ نہ کرلوں چین نہیں آتا۔ (الیاس اختر انصاری، لطیف آباد، حیدرآباد، سندھ ۱۳- الرسالہ اللہ کے فضل سے نہ صرف دینی، اخلاقی، تعمیری پہلو سے لوگوں کے لیے مفید ثابت ہورہا ہے، بلکہ اور بھی کئی پہلوؤں سے لوگوں نے اس سے فائدہ اٹھایا ہے۔ مسٹر کشن جیونت راؤ پاٹل (نانڈیر) اور مسٹر راج تیواری (بھوپال) نے بتایا کہ انھوں نے الرسالہ اور اس کی مطبوعات کو اردو میں پڑھنے کے لیے اردو زبان سیکھی ہے۔ محترمہ فرزانہ (حیدر آباد) لکھتی ہیں کہ "ایک انگلش میڈیم کی طالبہ ہونے کے باوجود آج میں اردو زبان اچھی طرح لکھنے اور پڑھنے کے قابل ہو ہوئی ہوں وہ آپ کی عنایت اور الرسالہ کی بدولت ہے۔ مجھے دین سے اتنی لگن اور محبت الرسالہ کے مطالعہ سے ہوئی ۔ میں اب پوری طرح مسلمان ہوں۔ ہر نماز میں آپ کے لیے اور الرسالہ کے لیے دعا کرتی ہوں۔
۱۴- ایک نئی کتاب جلد ہی چھپنے والی ہے۔ اس کا نام " راہ عمل " ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1989 All issues