Al-Risala · February 1989 · page 12

اپنے لیے کچھ دوسرے کے لیے کچھ

الرسالہ، فروری ۱۹۸۹، صفحہ ۱۲

اپنے لیے کچھ دوسرے کے لیے کچھ

ایک صاحب نے کہا کہ آپ الرسالہ میں مسلمانوں کو بزدلی اور پسپائی کا سبق دے رہے ہیں۔ حالاں کہ اسلام نے جہاد و قتال کی تعلیم دی ہے۔ انھوں نے پرجوش طور پر بولتے ہوئے کہا : شیر کی ایک دن کی زندگی گید ڑ کی ہزار سال کی زندگی سے بہتر ہے۔

میں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ حالات میں مسلمان قرآن کے جس حکم کے مخاطب ہیں وہ صبر و اعراض ہے۔ اسی لیے میں خود اس پر عامل ہوں اور مسلمانوں کو بھی اس پر عمل کرنے کی تلقین کرتا ہوں۔ آپ کا خیال ہے کہ یہ مسلمانوں کے لیے جہاد و قتال کا وقت ہے تو پھر اس کا ثواب میں آپ کیوں نہیں شریک ہو جاتے ۔ آپ کے خیال کے مطابق ، آج ساری دنیا میں بہت سے جہاد کے میدان کھلے ہوئے ہیں۔ پھر بسم اللہ کر کے ان میں سے کسی میدان میں کو دپڑیئے ۔ اور لڑا کر شہید ہو جائیے ۔

انھوں نے کہا کہ میں نے ایک ادارہ قائم کیا ہے اور اس کے تحت اصلاحی تقریریں کر رہا ہوں ، کیا یہ جہاد نہیں۔ میں نے کہا کہ آپ خود تو تقریر کے میدان میں جہاد کر رہے ہیں اور دوسرے مسلمانوں کو جنگ و قتال کے میدان میں جہاد کے لیے اتارنا چاہتے ہیں ۔

موجودہ زمانہ میں تقریبا تمام مسلم رہنما قول و عمل کے اسی تضاد میں مبتلا ہیں۔ ان کا حال یہ ہے کہ وہ خود زبان چلائیں گے اور دوسرے مسلمانوں سے کہیں گے کہ تم تلوار چلاؤ ۔ خود اپنے بچوں کوکانونٹ میں پڑھائیں گے اور دوسری طرف بیانات شائع کریں گے کہ جامعہ ملیہ ایکٹ (۱۹۸۸) میں جامعہ کے اسلامی کردار کو ختم کر دیا گیا ہے ۔ خود اپنے معاملات ایڈ جسٹمنٹ کے ذریعہ حل کریں گے اور مسلمانوں سے کہیں گے کہ تم خلائی فوجدار ہو اس لیے جہاں اپنے خلاف کوئی بات دیکھو لڑ جاؤ ۔ اپنی ذاتی زندگی میں عدل وانصاف پر قائم نہ ہوں گے اور نعرہ لگائیں گے کہ ساری دنیا میں عدل و انصاف کا نظام قائم کرو۔

یہی وہ لوگ ہیں جن کو ذوالقلبین اور ذوالوجہین کہا گیا ہے ۔ اردو زبان میں اس کو دو عملی کہا جاتا ہے۔ اس قسم کا کردار اللہ کی نظر میں سخت نا پسندیدہ ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : کیا تمہارا یہ حال ہے کہ تم لوگوں سے نیک کام کرنے کے لیے کہتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو ، حالاں کہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو ، کیا تم سمجھتے نہیں (البقرہ 44)

‹ Previous page Next page › Contents of February 1989 All issues

Printed page