علی گڑھ کی مثال
الرسالہ، فروری ۱۹۸۹، صفحہ ۱۴
یہ ہے کہ لفظی تقریریں کرو، مگر جب عمل کا وقت آئے تو ایک خوبصورت عذر بیان کر کے پیچھے بیٹھ جاؤ۔ اس کے برعکس پیروان تحریک اپنی نادانی یہ سمجھتے ہیں کہ جو تقریر کی جائے اس کے مطابق عمل بھی ضرور کیا جائے۔
ایسی حالت میں میں مسلم عوام کو مشورہ دوں گا کہ وہ اپنے قائدین کی ادھوری پیروی کرنے کے بجائے ان کی مکمل پیروی کریں۔ مسلم عوام اگر چاہتے ہیں کہ جس طرح ان کے قائدین کی جان و مال پوری طرح محفوظ ہے اسی طرح ان کی اپنی جان و مال بھی پوری طرح محفوظ رہے تو اس کا نہایت سادہ ساحل یہ ہے کہ قائدین کے کہے کو کرو، ان کے کہے کو بالکل نظر انداز کر دو۔
علی گڑھ کی مثال
فرقہ وارانہ فساد کی حقیقت کیا ہے اور اس سے کس طرح بچا جا سکتا ہے، اس کو سمجھنے کے لیے علی گڑھ کی مثال لیجیے۔ علی گڑھ کے مسلمان قائدین تحریک کے لفظوں سے (نہ کہ عمل سے) متاثر ہو کر بابری مسجد تحریک کے مسئلہ پر زبردست جوش و خروش دکھا رہے تھے۔ اس کے جواب میں وہاں کے ہندو بھی پوری طاقت سے ابھر آئے ۔ ۸ اکتوبر کو بجرنگ دل، ہندو پریشد اور رام جنم بھومی مکتی سنگھرش سمتی کی جانب سے یک روزہ علامتی ہڑتال ریاست گیر پیمانہ پر ہوئی۔ ایسے نازک مواقع پر مسلم قائدین اپنا " مارچ" ملتوی کر دیتے ہیں مگر علی گڑھ کے مسلمانوں نے اس کے برعکس اپنا " مارچ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ تناؤ اور اشتعال بڑھتا چلا گیا۔ ۸ اکتوبر 1988 کو صبح ۹ بجے سے آر ایس ایس کے رضا کار اپنے ہاتھوں میں ڈنڈے سے لیے ہوئے تمام شہر کی دکانوں کو زبردستی بند کرا رہے تھے۔ ریلوے روڈ، سبزی منڈی اور بڑا بازار میں انھوں نے مسلم اقلیت کی دکانوں کو بھی طاقت کے بل پر بند کرا دیا۔ تاہم صرف دکانوں کو بند کرانے سے ان کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔ چنانچہ انھوں نے بند دکانوں کے اوپر بینز لگا دیے، جن پر علی گڑھ کے بجائے " ہری گڑھ " لکھا ہوا تھا۔
مسلمانوں کے لیے یہ منظر نا قابل برداشت ثابت ہوا۔ انھوں نے ان بینروں کو اپنی دکانوں سے اتار دیا۔ اب بجرنگ دل اور آر ایس ایس کے رضا کاروں کا مقصد پورا ہو چکا تھا۔ وہ یہی چاہتے تھے کہ مسلمان مشتعل ہو کر کوئی کارروائی کریں۔ اور مسلمانوں نے بینر ا تار کر وہ کارروائی کر دی۔ چنانچہ فوراً وہ تخریب کاری پر اتر آئے۔ چند منٹوں کے اندر خنجر زنی ، لوٹ مار ، آتش زنی اور فائرنگ کا
‹ Previous page Next page › Contents of February 1989 All issues